پاکستانی خطاط نے ترکی میں ہونے والا بین الاقوامی مقابلہ خطاطی جیت لیا

0 578

ترکی میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ "قرآن مجید نازل مکہ مکرمہ میں ہوا، اس کی تلاوت قاہرہ میں کی گئی اور لکھا اسے استنبول میں گیا۔” یہ خطاطی اور ترکی بالخصوص استنبول کے گہرے تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیائے خطاطی کا سب سے بڑا مقابلہ اسی شہر میں ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے اور اس بار اس مقابلے کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں ایک پاکستانی خطاط نے اول انعام حاصل کیا ہے۔

پاکستان کے معروف خطاط محمد علی زاہد پہلے پاکستانی بن گئے ہیں جنہوں نے ترکی میں ہونے والے بین الاقوامی مقابلہ خطاطی میں پہلا انعام لیا ہے۔ یہ مقابلہ ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے اور آغاز سے اب تک ترک اور دیگر ممالک کے خطاط تو جیتتے رہے ہیں، لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی پاکستانی خطاط نے یہ اعزاز حاصل کیا ہو۔

محمد علی زاہد کا مقابلہ جیتنے والا فن پارہ

ترک انٹرنیشنل کیلی گرافی کمپٹیشن 2021ء میں دنیا بھر کے خطاطوں کے بہترین فن پارے پیش کیے گئے۔ منتظمین کے مطابق محمد علی زاہد برصغیر پاک و ہند کے پہلے خطاط ہیں، جو خطاطی میں اتنی نفاست اور وسیع معلومات رکھتے ہیں۔

یہ مقابلہ 2005ء سے منعقد ہو رہا ہے اور ہر بار اس کا ایک الگ موضوع ہوتا ہے۔ رواں سال اس سلسلے کا چھٹا مقابلہ منعقد ہوا۔ جیتنے کے بعد فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے محمد علی زاہد نے کہا کہ میں ترک انٹرنیشنل کیلی گرافی کمپٹیشن کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے فن کے مظاہرے کے لیے مجھے یہ پلیٹ فارم عطا کیا۔ میں یہ اعزاز پانے پر بہت فخر محسوس کرتا ہوں۔

اس مقابلے کا مقصد کلاسیکی اسلامی فنون، خاص طور پر خطاطی کو محفوظ کرنا اور اس کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور عوام میں دلچسپی بڑھانا ہے۔ اس مقابلے میں پانچ مختلف زمروں میں انعامات دیے جاتے ہیں جو مختلف خط کے لحاظ سے تقسیم ہیں، مثلاً خطِ ثلث جلی، ثلث، ثلث نسخ، نستعلیق جلی اور دیوانی جلی۔ ان میں سب سے بڑا اعزاز خطِ ثلث جلی کو سمجھا جاتا ہے اور علی زاہد نے اسی میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس سال فاتحین کے درمیان 6 لاکھ ترک لیرا یعنی 81 ہزار ڈالرز کے انعامات تقسیم کیے گئے ہیں۔

تبصرے
Loading...