وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ترک صدر ایردوان کو خراجِ تحسین

0 962

ترک صدر رجب طیب ایردوان کو اُن کی متحرک قیادت پر سراہتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک کو سنگین معاشی حالات سے نکالنے کے لیے ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔

"ترکی کو 2002ء تک ان معاشی مشکلات سے بھی زیادہ سنگین حالات کا سامنا تھا جو ہمیں درپیش ہیں۔ پھر یہ ایردوان تھے جو اقتدار میں آئے اور ملک کو ان حالات سے باہر نکالا،” عمران خان نے مقامی ادارے ARY نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا۔ "رہنما ہتھیار ڈالنے کے بجائے صورتِ حال کا سامنا کرتا اور اس سے نمٹتا ہے۔”

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عمران خان نے ترک صدر کو ان کی اقتصادی پالیسیوں پر سراہا ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی خان نے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے ایردوان کے نقشِ قدم پر چلنے کا عہد کیا تھا۔

مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لندن میں مقیم صاحبزادوں نے اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے دو دوست ممالک تک رسائی حاصل کی تاکہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ لیکن دونوں ملکوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، وزیر اعظم نے ان ملکوں کے نام نہیں بتائے۔

مقامی میڈیا نے نامعلوم سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ دوست ممالک ترکی اور قطر تھے۔

نواز شریف کی دائیں بازو کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

عمران خان کی تحریکِ انصاف، جس نے جولائی 2018ء میں حکومت بنائی تھی، اپنی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے کڑی تنقید کی زد میں ہے کہ جس نے حالیہ چند مہینوں میں افراطِ زر میں زبردست اضافہ اور کرنسی کی شرح میں تیزی سے کمی دکھائی ہے۔

تبصرے
Loading...