پاکستانی وزیر خارجہ کی ترک صدر اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں

0 552

پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے خطے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم افغانستان کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ ہارٹ آف ایشیا-استنبول پروسس کے آٹھویں وزراء اجلاس سے خطاب کر رہے تھے کہ جو استنبول میں منعقد ہوا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ مضبوط اور تاریخی تعلقات کا دعویٰ رکھنے والا کوئی بھی ملک پاکستان سے زیادہ اُس کے امن، استحکام اور خوشحالی کی خواہش نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پچھلی چار دہائیوں سے 30 لاکھ سے زیادہ افغانستان مہاجرین کی میزبانی کر چکا ہے اور افغانستان کی ترقی اور تعمیرِ نو کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے کہ جس میں ایک ارب ڈالرز کی ترقیاتی امداد بھی شامل ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اہم ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے افغان-پاکستان ایکشن پلان برائے امن و استحکام (APAPPS) کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کوششوں کی حالیہ بحالی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ امن عمل افغانستان میں داخلی مذاکرات پر منتج ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والوں سے بھی خبردار کیا کہ جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک وسیع علاقائی و بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے ساتھ افغانستان میں دیرپا امن کے اِس موقع کو استعمال کریں۔

وزیر خارجہ نے اجلاس میں شرکت کے علاوہ صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات بھی کی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی و برادرانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ترک عوام اور حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ترک ہم منصب مولود چاؤش اوغلو سے بھی ملاقات کی۔

اجلاس کے دوران فریقین نے باہمی دلچسپی کے نئے شعبوں، بالخصوص دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

تبصرے
Loading...