فلسطین بھی ترکی کے ساتھ لیبیا طرز کا بحری خصوصی اقتصادی زون کامعاہدہ کرنے کے لیے تیار

0 2,898

فلسطینی اتھارٹی بحری حدود کی حد بندی اور مشرقی بحیرۂ روم میں قدرتی وسائل پر ترکی کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔

انقرہ کے لیے فلسطین کے سفیر فائد مصطفیٰ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فلسطین لیبیا کے ساتھ ترکی کے معاہدے کی پیروی کرتے ہوئے ایسے ہی معاہدہ پر دستخط کر سکتا ہے۔ "ہم ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے ہر تصور پر غور کرنے کو تیار ہیں، اور اس میں خصوصی اقتصادی زون پر معاہدہ بھی شامل ہے۔ بحیرۂ روم پر ہمارا بھی حق ہے۔ فلسطین مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تیل اور گیس میں اپنا حصہ رکھتا ہے۔ ہم ان شعبوں میں تعاون کرنے اور معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

غزہ کی پٹی کے ساتھ فلسطینی علاقے مشرقی بحیرۂ روم میں ساحلی علاقہ رکھتے ہیں جو انہیں بحری حقوق کا اہل بناتا ہے۔ 2007ء سے غزہ میں حماس کی حکومت ہے، جس کے مغربی کنارے میں موجود الفتح سے کشیدہ تعلقات ہیں۔

مصطفیٰ نے کہا کہ اسرائیل غزہ مرین گیس فیلڈ میں فلسطین کی تلاش اور ڈرلنگ کی سرگرمیاں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ فیلڈ 1999ء میں غزہ سے تقریباً 30 کلومیٹرز دور دریافت ہوئی تھی۔

اسرائیل اور مصر کی جانب سے غزہ کی ناکابندی کرنے اور کشیدگی اور اشتعال انگیز واقعات کے عام ہونے سے یہ فیلڈ تقریباً 20 سال سے بند پڑی ہے حالانکہ یہاں ایک اندازے کے مطابق ایک ٹریلین مکعب فٹ گیس موجود ہے۔ مصطفیٰ نے کہا کہ "ہم اسرائیلی دباؤ کی وجہ سے اس گیس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔”

ترکی اور لیبیا کی اقوامِ متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ نے پچھلے سال نومبر میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے کہ جس میں مشرقی بحیرۂ روم میں یونان اور قبرص کی علاقے میں ڈرلنگ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بحری زونز کی نئی حد بندی کی گئی تھی۔

فلسطین کے ساتھ ایک اور معاہدہ ترکی کی جانب سے یونان کو روکنے کی کوششوں کو مزید بڑھائے گا جو ترکی کو ایک مختصر ساحلی علاقے تک محدود کرنا چاہتا ہے۔

ترکی اور یونان گو کہ نیٹو اتحادی ہیں لیکن قبرص کے معاملے پر دونوں کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔ یہ جزیرہ 1974ء سے یونانی اور ترک قبرص میں تقسیم ہے جب یونان کی جانب سے شروع کی گئی بغاوت نے ترکی کو قبرص میں دخل اندازی پر مجبور کیا۔

جزیرے کے جنوبی علاقوں میں واقع جمہوریہ قبرص یورپی یونین کی رکن ریاست ہے جبکہ شمالی حصوں پر موجود ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو صرف ترکی ہی تسلیم کرتا ہے۔ صلح کی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور 2000ء کی دہائی میں ساحلی علاقوں کے ساتھ قدرتی وسائل کی دریافت نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق ساحلی ریاستوں کو اپنے ساحل سے 320 کلومیٹرز تک بحری حد رکھنے کا حق حاصل ہے کہ جہاں وہ "خصوصی اقتصادی زون” (EEZ) بنا سکتے ہیں اور وہاں انہیں قدرتی وسائل کی تلاش اور استعمال کا حق حاصل ہے۔

لیکن مشرقی بحیرۂ روم کی محصوص شکل کی وجہ سے ایسے علاقے ایک دوسرے میں داخل ہو گئے ہیں جس پر کوئی بھی ملک دعویٰ کر سکتا ہے، اس لیے مذاکرات اور سودے بازی کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے ترکی اور یونان دونوں نے ہی سرکاری سطح پر EEZ کے دعوے نہیں کیے، لیکن علاقے پر ایک دوسرے کے ساتھ کشیدگی سے بھی نہیں رکے ہیں۔

تبصرے
Loading...