بلقان میں امن و استحکام ہمارے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، صدر ایردوان

0 631

بوسنیا و ہرزیگووینا روانگی سے قبل استنبول کے اتاترک ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اپنی تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی جڑوں کے ساتھ ترکی بھی بلقان کا ملک ہے۔ بلقان میں امن،استحکام، سکون اور ترقی ہمارے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارا ملک دور بیٹھا اس علاقے میں ہونے والے واقعات کو آرام سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس جذبے کے ساتھ ہم نے بلقان کے کثیر ثقافتی ڈھانچے اور مقامی امن کے تحفظ کے لیے کام کیا۔”

صدر رجب طیب ایردوان سرائیوو میں ساؤتھ ایسٹ یورپین کوآپریشن پروسس (SEECP) اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی سے بوسنیا و ہرزیگووینا روانہ ہوگئے ہیں۔

"اپنی تاریخی و ثقافتی جڑوں کے ساتھ، ترکی بھی بلقان کا ملک ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "اپنی تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی جڑوں کے ساتھ ترکی بھی بلقان کا ملک ہے۔ بلقان میں امن،استحکام، سکون اور ترقی ہمارے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارا ملک دور بیٹھا اس علاقے میں ہونے والے واقعات کو آرام سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس جذبے کے ساتھ ہم نے بلقان کے کثیر ثقافتی ڈھانچے اور مقامی امن کے تحفظ کے لیے کام کیا۔”

ترکی نہ صرف باہمی میکانزم کے ذریعے بلقان میں علاقائی امن کے تحفظ میں حصہ ڈالتا ہے بلکہ صدر ایردوان نے زور دیا کہ SEECP واحد علاقائی تعاون اور باہمی گفتگو کا پلیٹ فارم ہے جو بلقان کے ممالک کا احاطہ کرتا ہے۔

"ہمارے ڈرلنگ بحری جہاز مشرقی بحیرۂ روم میں اپنی تلاش و تحقیق کی سرگرمیاں جاری رکھیں گے”

مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کے ڈرلنگ جہاز مشرقی بحیرۂ روم میں اپنی تلاش و تحقیق کی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ اس معاملے پر کوئی بھی آواز ترکی کو اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔ صدر ایردوان نے زور دیا کہ اس معاملے پر کارروائی کا فیصلہ ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کر رہے ہیں۔

اس معاملے پر ترکی کی حساسیت کا وہ حالیہ G20 اجلاس میں بھی غیر ملکی رہنماؤں سے ذکر کر چکے ہیں۔ صدر ایردوان نے بتایا کہ انہوں نے یونان کے نو منتخب صدر کو بذریعہ فون مبارکباد دی ہے اور کہا کہ "یہ میری خواہش ہے کہ ہم یونان میں امن و استحکام کے نئے عمل کا آغاز کریں۔ اب جبکہ انتخابات مکمل ہو چکے ہیں ہم متعلقہ حکام کے ذریعے اپنے مذاکرات کو شروع کریں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمیں آئندہ عرصے میں بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ روم میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔”

S-400 کی فراہمی

S-400 کی فراہمی کے سوال پر صدر ایردوان نے کہا کہ "شپمنٹ کی تیاریاں جاری ہیں۔ یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ کوئی خاص وقت بتانے پر ہمیں مجبور نہ کریں۔ البتہ شپمنٹ کی تیاریاں، لوڈنگ کا کام وغیرہ جاری ہے۔ بلاشبہ حتمی ٹائم ٹیبل موجود ہے جس کے ساتھ ہم نے ان کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ انہیں کہاں لگایا جائے گا اس کا فیصلہ وزارت قومی دفاع اور جنرل اسٹاف کریں گے۔”

صدر ایردوان اور ان کا وفد پریس کانفرنس کے بعد بوسنیا کے لیے روانہ ہو گیا۔

اس دورۂ بوسنیا پر صدر کے ہمراہ خاتونِ اول امینہ ایردوان، وزیر قومی دفاع خلوصی آقار، وزیر خزانہ و مالیات بیرات البیراک اور وزیر ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر جاہد طورخان ہیں۔

تبصرے
Loading...