فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر کسی بھی امن معاہدے کو مسترد کردیا جائے گا: وزیر خارجہ چاؤش اوغلو

0 1,333

ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر کسی بھی امن معاہدے کا مقدر مسترد ہونا ہی ہے، وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا۔

"اپنی چیئرمین شپ کے عرصے میں ہم نے فلسطینیوں کے حقوق کو اپنا مشترکہ مقصد سمجھتے ہوئے ان کے دفاع کے لیے کوئی کوتاہی نہیں کی۔” چاؤش اوغلو نے اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کے جدہ، سعودی عرب میں منعقدہ اجلاس کو بتایا۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ایک آزاد، خود مختار اور متصل فلسطین کے قیام کے لیے OIC ممالک اپنی طاقتیں اور کاوشیں مجتمع کریں۔ یہ ہمارے کاندھوں پر موجود اوّلین اور بڑی ذمہ داری ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ تمام رکن ممالک کو بیت المقدس کی حیثیت کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے اپنے عزم کی تجدید کرنے اور اسے سُرخ لکیر قرار دینے پر زور دینے کی ضرورت ہے۔

"اسی لیے مجھے اعتماد ہے کہ کوئی بھی امن معاہدہ جس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تخلیق شامل نہ ہو کہ جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، کی منزل OIC برادری کی جانب سے مسترد ہونا ہی ہوگی۔” چاؤش اوغلو نے کہا۔

شام میں ترکی کا نمایاں کردار

شام پر انہوں نے کہا کہ ترکی دیرپا سیاسی حل تک رسائی کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ "استانا پلیٹ فارم کے مطابق ہمارا کام میدانِ عمل میں تناؤ کو کم کرنا اور سیاسی عمل کو سہل بنانا ہے۔ ادلب مفاہمت نے نہ صرف انسانی سانحے اور ترکی کی جانب مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کو بلکہ سیاسی عمل کے بکھر جانے کو بھی روکا۔” چاؤش اوغلو نے کہا۔

ترکی اور روس نے ستمبر میں ادلب کو ایک خصوصی زون میں تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کی کہ جہاں جارحیت دکھانا سختی سے ممنوع ہے۔ البتہ شامی حکومت فائربندی کی مستقل خلاف ورزی کرتی ہے، جو اس خصوصی زون کے اندر بارہا حملے کر رہی ہے۔

شام 2011ء کے اوائل میں اسد حکومت نے مظاہرین کے خلاف سنگین کریک ڈاؤن سے شروع ہونے والے تباہ کن تنازع کے بعد اب ابھرنا شروع ہی ہوا ہے۔

لیبیا میں سیاسی حل کی ضرورت

لیبیا کی طرف رُخ کرتے ہوئے چاؤش اوغلو نے زور دیا کہ جنگ سے متاثرہ ملک کے لیے سیاسی حل کا کوئی متبادل نہیں۔

اپریل کے اوائل میں جنرل خلیفہ ہفتار نے طرابلس کو لیبیا کے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی متفقہ حکومت (GNA) سے چھیننے کے لیے مہم شروع کردی۔

لیبیا 2011ء میں طویل عرصے تک برسر اقتدار رہنے والے معمر قذافی کا تختہ الٹنے اور نیٹو کی حمایت سے ہونے والی ایک خونی بغاوت میں مارے جانے کے بعد سے افراتفری کا شکار ہے۔

تب سے ملک میں طاقت کے دو متحارب مراکز ہیں: ایک مشرقی لیبیا میں کہ جس سے ہفتار کا الحاق ہے، اور دوسری GNA، جو طرابلس میں ہے۔

کشمیر میں امن کے لیے پاک-بھارت مذاکرات ضروری

کشمیر پر چاؤش اوغلو نے کہا کہ یہ تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔

جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی ہمالیائی علاقہ ہے جس کے حصے پاکستان اور بھارت کے پاس ہیں اور دونوں پوری ریاست پر دعویٰ بھی رکھتے ہیں۔ کشمیر کا ایک چھوٹا سا حصہ چین کے پاس بھی ہے۔

1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سے دونوں ممالک 1948ء، 1965ء اور 1971ء میں تین جنگیں بھی لڑ چکے ہیں جن میں سے دو کشمیر پر ہوئیں۔

بھارت اور پاکستان کی افواج 1984ء سے شمالی کشمیر کے سیاچن گلیشیئر پر بھی آنے سامنے ہیں۔ 2003ء میں فائربندی عمل میں آئی۔

جموں و کشمیر میں چند کشمیری گروہ آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔

چاؤش اوغلو نے یہ بھی کہا کہ ترکی نے OIC میں اپنی چیئرمین شپ کے دوران دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش بڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے پوری کوشش کی۔

"البتہ ہم اب بھی اسلاموفوبیا اور اس کے پس پردہ زہریلے خیالات کے خلاف جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔”

اجلاس کے بعد ترکی نے OIC اجلاس کی چیئرمین شپ سعودی عرب کے حوالے کی۔

تبصرے
Loading...