کروناوائرس کی عالمگیر وباء کی پیشن گوئی کرنے والے 11 لوگ

0 4,352

تاریخ ثابت کرتی ہے کہ عالمگیر بیماریاں ناگزیر ہیں۔

1918ء میں انفلوئنزا کی وباء پھیلی، جس نے کم از کم 5 کروڑ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، یعنی اُس وقت دنیا کی ایک تہائی آبادی کو۔ 20 ویں صدی نے ایبولا اور نیپا وائرس جیسی وبائیں دیکھیں۔ 2000ء کی دہائی میں سارس اور مرس نے تقریباً 30 ممالک کو زد میں لیا۔

اب COVID-19 کا مرض ہے جو کروناوائرس کی وباء کا نتیجہ ہے اور دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ گو کہ اس میں شرحِ اموات مندرجہ بالا چار بیماریوں سے کم ہے، لیکن یہ کہیں زیادہ ممالک تک پھیل چکا ہے۔

لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے ایسی کسی عالمی وباء کی آمد کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا۔ بل گیٹس سالوں سے کسی عالمگیر وباء سے خبردار کر رہے ہیں، جبکہ کئی معروف ماہرینِ امراض اور فلو کے ماہر بھی۔ وائٹ ہاؤس کے سابق عہدیداروں نے بھی کسی آئندہ عالمگیر خطرے سے خبردار کیا۔

پاپ کلچر نے بھی جدید کروناوائرس کی پیشن گوئی کی تھی۔ کتب اور فلموں کے حوالے سے آن لائن سازشی نظریات بھی ایک عالمگیر وباء کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

ان میں سے کچھ پیشن گوئیاں محض قیاس ہیں۔ لیکن ماہرین کی جانب سے کی گئی پیشن گوئیاں زیادہ درست ہیں اور سب کا ایک ہی مؤقف نظر آتا ہے: دنیا اس کے لیے تیار نہیں ہے۔

بل گیٹس سالہا سال سے ایک عالمگیر وباء سے خبردار کر رہے ہیں

2015ء میں ایک TED ٹاک سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ دنیا "اگلی عالمی وباء کے لیے تیار نہیں۔”

2018ء میں میساچوسٹس میڈیکل سوسائٹی اور نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی جانب سے وباؤں کے حوالے سے ایک مذاکرے میں گیٹس نے کہا کہ عالمگیر وباء اگلی دہائی میں آ سکتی ہے۔

انہوں نے انسٹیٹیوٹ فار ڈیزیز ماڈلنگ کی ایک simulation بھی پیش کی کہ جس نے پایا کہ 1918ء جیسی نئی فلو نما بیماری چھ مہینے کے اندر 3 کروڑ لوگوں کو مار سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آثار یہی ہیں کہ ایسی بیماری ہماری باہم منسلک دنیا میں بڑھتی ہی چلی جائے گی، چاہے یہ مرض قدرتی طور پر ابھرے یا کسی بطور ہتھیار استعمال کے لیے تخلیق کردہ بیماری سے۔

بل گیٹس نے کہا کہ "حیاتیاتی خطرات کے معاملے میں فوری اقدامات اٹھانے کا ادراک کم ہے۔ دنیا کو عالمگیر وباؤں کے لیے تیار ہونا ہوگا بالکل ویسے ہی جیسے جنگوں کے لیے تیار ہے۔”


وبائی امراض کے ماہر مائیکل اوسٹرہوم نے بھی عالمگیر وباء سے خبردار کیا

سی این این کے مطابق اوسٹرہوم نے 2005ء میں فارن افیئرز میگزین میں لکھا تھا کہ "یہ ہماری تاریخ کا ایک نازک مرحلہ ہے۔ اگلے وبائی مرض کے لیے تیار رہنے کا وقت نکلا جا رہا ہے۔ ہمیں اب لازماً پوری قطعیت اور بھرپور ارادوں کے ساتھ قدم اٹھانا ہوگا۔”

انہوں نے اپنی 2017ء میں لکھی گئی کتاب "Deadliest Enemy: Our War Against Killer Germs ” میں یہ بھی کہا کہ امریکا کسی عالمگیر وباء کے لیے تیار نہیں۔


وائرولوجسٹ اور فلو ماہر رابرٹ جی ویبسٹر نے دسمبر میں شائع ہونے والی کتاب میں فلو کی عالمگیر وباء کی پیشن گوئی کی

"Flu Hunter: Unlocking the secrets of a virus” میں ویبسٹر نے سوال اٹھایا کہ آیا ایک اور مہلک اور نظامِ زندگی کو تہہ و بالا کر دینے والی عالمگیر وباء ممکن ہے۔ "جواب ہے جی ہاں: یہ نہ صرف ممکن ہے، بلکہ بہت زیادہ دُور بھی نہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس عالمگیر وباء پر قابو پانے یا اس کی ہیئت بدلنے سے پہلے لاکھوں لوگ مر سکتے ہیں۔ قدرت ایک مرتبہ پھر 1918ء کے انفلوئنزا وائرس جیسی کسی وباء سے انسانیت کو چیلنج کر سکتی ہے۔ ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔


امریکی انٹیلی جینس ٹیم حالیہ چند سالوں سے کسی عالمگیر وباء کے امکانات سے خبردار کر چکی ہے

2018ء میں انٹیلی جینس کمیونٹی کی Worldwide Threat Assessment نے خبردار کیا کہ "وائرس زدہ جرثوموں کی نئی کوششیں جو باآسانی انسانوں میں سرایت پذیر ہیں بدستور ایک بڑا خطرہ ہیں۔”

2019ء کے خطرہ جائزے میں کہا گیا کہ "ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکا اور دنیا بدستور فلو کی اگلی عالمگیر وباء یا کسی وبائی مرض کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کی زد میں ہے کہ جو بڑے پیمانے پر اموات اور معذوری کا سبب بن سکتی ہے، عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، بین الاقوامی وسائل کو متاثر کر سکتی ہے اور مدد کے لیے امریکا سے مطالبات بڑھا سکتی ہے۔”


اوباما انتظامیہ میں یو ایس ایڈ کے عہدیدار جیری کوننڈک نے کہا کہ 1918ء جیسی وباء ابھرے گی

2017ء میں Politicio میں لکھی گئی ایک تحریر میں کوننڈک نے کہا کہ "صحت کے حوالے سے ایک بڑا عالمگیر بحران آئے گا یا نہیں، سوال یہ نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ایسا بحران کب آئے گا۔”

وقت آنے پر ایک انتہائی مہلک اور بہت تیزی سے پھیلنے والا وائرس ابھرے گا – بالکل 1918ء کی اسپینش فلو جیسی عالمگیر وباء کی طرح، کہ جس نے اس وقت کی ایک تہائی عالمی آبادی کو متاثر کیا تھا اور 5 سے 10 کروڑ افراد کی جانیں لیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ ایسی کسی بھی عالمگیر وباء کے لیے تیار نہیں۔


عالمگیر وباؤں کے لیے ذمہ دار سابقہ وائٹ ہاؤس نیشنل سکیورٹی کونسل ٹیم کی ڈاکٹر لوسیانا بوریو عالمگیر فلو کے خطرے سے خبردار کر چکی ہیں

سی این این کے مطابق طبی و حیاتیاتی دفاع کی تیاری کے حوالے سے کونسل کی ڈائریکٹر بوریو نے 2018ء میں کہا تھا کہ "عالمگیر فلو کا خدشہ صحت کے حوالے سے نمبر ایک خطرہ ہے۔ کیا ہم اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔”

اس وقت کے ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے بعد ازاں NSC کی تنظیمِ نو کے دوران اس ٹیم کا خاتمہ کر دیا تھا۔


ایک دہائی قبل میساچوسٹس کے عوامی صحت کے عہدیداروں نے اندازہ لگایا تھا کہ سانس کی ایک نئی بیماری لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے

2006ء فلو پینڈیمک پری پیئرڈنیس پلان میں ان عہدیداروں نے اندازہ لگایا تھا کہ 20 لاکھ افراد بیمار پڑ سکتے ہیں۔

ان کا اندازہ تھا کہ ریاست میں 10 لاکھ افراد تک کا بیرونی مریض کی حیثیت سے علاج کرنا پڑے گا اور 80 ہزار کو ہسپتالوں میں علاج کی ضرورت ہوگی، یہ سب اندازے امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے تیار کردہ ماڈلز کی بنیاد پر لگائے گئے۔

کیونکہ ہسپتالوں کا نظام پہلے ہی اس مرض کے شکار افراد کے دباؤ کا شکار ہوگا، اس لیے اُن کے اندازوں کے مطابق 20 ہزار اموات ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے "دیکھ بھال کے متبادل مقامات” بنانے کے حوالے سے ہسپتالوں سے معاہدے کیے جیسا کہ ہائی اسکول وغیرہ میں۔


آن لائن سازشی نظریات بھی پھیل رہے ہیں، جیسا کہ ڈین کونٹز نے 1981ء کے ناول میں ایک عالمگیر وباء کی پیشن گوئی تھی

گارجیئن کے مطابق کونٹز کی کتاب "The Eyes of Darkness” ایک وائرس "ووہان-400ِ” کا حوالہ دیتی ہے یعنی وہی شہر کہ جہاں سے یہ جدید کروناوائرس نکلا ہے۔

لیکن سی این این کی ڈاکٹر ہرمیت کور نے اس سازشی نظریے کو باطل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اصل کروناوائرس اور اس کتاب میں مذکور ووہان-400 میں فرق ہیں، کتاب میں موجود وائرس کو سائنس دانوں نے حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر بنایا تھا اور اس میں اموات کی شرح 100 فیصد تھی۔ اصل کروناوائرس میں ایسا کچھ نہیں۔


خود ساختہ روحانی معالج سلویا براؤن نے بھی کروناوائرس جیسی عالمگیر وباء کی پیشن گوئی کی تھی

اپنی 2008ء کی کتاب "End of Days: Predictions and Prophecies About the End of the World” میں انہوں نے لکھا کہ "2020ء کے قریب ایک شدید نمونیا جیسی بیماری دنیا بھر میں پھیلے گی، جو پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوگی اور ہر قسم کے علاج کے خلاف مزاحمت رکھے گی۔”

لیکن سائنسی محقق بینجمن ریڈفورڈ نے کہا کہ COVID-19 نمونیا کا سبب بن سکتی ہے لیکن یہ "نمونیا جیسی شدید بیماری” نہیں ہے۔

براؤن نے لکھا تھا کہ یہ مرض "ویسے ہی اچانک غائب ہو جائے گا جیسا کہ آیا تھا،” لیکن ریڈفورڈ کا کہنا ہے کہ یہ بات اس وقت درست نہیں ہے۔

دی انڈیپینڈنٹ کے جیکب اسٹالورتھی کے مطابق براؤن، جو اب انتقال کر چکی ہیں، متعدد پیشن گوئیاں کی تھیں جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔


ڈاکٹر اسٹیون سوڈربرگ اور اسکرین رائٹر اسکاٹ زی برنز کی کی فلم "ٰContagion” نے بھی کروناوائرس کی عالمگیر وباء کی پیشن گوئی کی تھی

2011ء میں پیش کی گئی یہ فلم ایک فرضی بیماری MEV-1 کے بارے میں ہے جو ایک چمگادڑ سے ایک سؤر کو لگتی ہے اور پھر ہاتھ دھوئے بغیر مصافحہ کرنے والے ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوتے ہوئے عالمگیر وباء بن جاتی ہے۔

اس فرضی بیماری کے ظہور کا دورانیہ 72 گھنٹے اور موت کی شرح بھی کہیں زیادہ تھی۔


16 ویں صدی کے مشہور طبیب، نجومی اور پیش گو نوسٹریڈیمس نے بھی ایک "طاعون” کی پیشن گوئی کی تھی جو کروناوائرس جیسا لگتا ہے

1555ء میں مکیل ڈی نوسٹریڈیم یا نوسٹریڈیمس نے "Les Prophéties” شائع کی جو تقریباً 1،000 رباعیوں پر مشتمل ایک مجموعہ تھا۔ ان میں سے ایک کچھ یوں ہے:

"From the vain enterprise honour and undue complaint,
Boats tossed about among the Latins, cold, hunger, waves,
Not far from the Tiber the land stained with blood,
And diverse plagues will be upon mankind ”

تیبر اٹلی کا ایک دریا ہے جو ملک اور اس کی تاریخ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ایک اور رباعی کہتی ہے:

"The sloping park, great calamity,
Through the Lands of the West and Lombardy
The fire in the ship, plague and captivity;
Mercury in Sagittarius, Saturn fading ”

ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ "طاعون” اور "اسیری” کا ذکر دراصل کروناوائرس اور لاک ڈاؤن کی طرف اشارہ ہے۔ آخری سطر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ 23 اور 24 جنوری 2020ء کے آغاز کا حوالہ ہے۔ ووہان نے 23 جنوری کو سخت قرنطینے کا آغاز کیا تھا۔ "مغرب کی زمینیں اور لومباردی” کا مطلب یورپ، آسٹریلیشیا، امریکا اور اٹلی (لومباردی) ہے۔

لیکن یہ تمام باتیں مکمل طور پر قیاس ہیں۔ ایک طرف جہاں لوگ نوسٹریڈیمس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں کہ انہوں نے مستقبل کی درست پیشن گوئیاں کیں، وہیں لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کروناوائرس کے حوالے سے ان کی مبینہ پیشن گوئی ایک غلط دعویٰ ہے۔

برائن ڈننگ کہتے ہیں کہ "سیدھی بات یہ ہے کہ مستقبل کے کسی بھی واقعے کی پیشن گوئی کے لیے کسی نے کبھی نوسٹریڈیمس کی کتب کا استعمال ہی نہیں کیا۔”

تبصرے
Loading...