کاپادوکیا پر سفید چادر چھا گئی – موسم سرما کی پری کہانی

کاپادوکیا تاریخ میں بطور مسیحی تبلیغ کے مرکز کے طور پر معروف رہا ہے

0 1,132

رواں موسم سرما کی دوسری برف باری نے کاپادوکیا کو اپنی سفیدی میں لپیٹ لیا جس سے اس کے مناظر میں حیران کن تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ آر ٹی ای اردو آپ کے لیے ترکی سے براہ راست مناظر پیش کر رہا ہے۔

کاپادوکیا کے مناظر اس قدر طلسماتی اور فرضی لگتے ہیں کہ دیکھتے ہوئے سانسیں رک جاتی ہیں۔ مٹی کے بنے گھر اور غار انسان کو کسی اور دنیا میں لا کھڑا کرتے ہیں۔

کاپادوکیا کی تاریخ کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ لگ بھگ 6 کروڑ سال پرانی ہے۔ جہاں کی پہاڑیوں نے کسی پرانے آتش فشاں کے لاوے کے پھٹنے کے بعد موجودہ شکل اختیار کر لی تھی۔

 

 

اس خطے کی تہذیب آسوری قوم سے شروع ہوتی ہے جس نے اناطولیہ کے مرکز میں پہلی تجاری منڈی قایم کی تھی۔ کاپادوکیا میں ملنے والے کتبے بھی اس کا ثبوت دیتے ہیں۔

 

 

کاپادوکیا، قیصری شہر اور نیوشہر کے درمیان واقع ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ قدیم زمانے کی یہ علاوہ بہت زیادہ وسیع ہوا کرتا تھا۔

کاپادوکیا کے اکثر حصے خصوصاً گرجا گھر اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو کے تحت عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔

 

 

یہاں کی تراشی ہوئی پہاڑی چٹانیں، غار اور غاروں میں بنے ہوئے ہوٹل، اس کی دیواریں اور ان پر بنی ہوئی تصاویر ان کو حیرت کے سمندر میں اتار دیتی ہیں

یہاں پر اکثر جگہوں پر آپ کو مرکزی اناطولیہ کے "نظر بٹو” دیکھنے کو ملتے ہیں جو سفید اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ترکی سے آنے والے سیاح بالخصوص نوجوان جوڑے انہیں یہاں باندھ کر جاتے ہیں تاکہ ان کی جوڑی کو نظر نہ لگ سکے۔

رواں موسم سرما کی برف باری نے ایک بار پھر اس مسحور کن مناظر کو پری کہانی کا ایک نیا رنگ دیا ہے تاہم اس وجہ سے سیاحوں کی آمد رکی نہیں۔ موسم سرما اور گرما کی سیاحت میں یہاں یہاں الگ احساسات ملتے ہیں۔

پہاڑوں پر جمی برف

یتیم ترک نے 6 سالوں میں بچوں کے 50 ہزار جوتے تقسیم کر دئیے

 

اناطولیہ تہذیبوں ،ثقافتوں اور مذاہب کا گہوارہ رہا ہے جہاں کے ہر علاقے میں انسانوں کومختلف اور حیرت انگیز کہانیاں سننےکو ملتی ہیں۔

اگر آپ کو یہ تصاویر پسند آئی ہوں تو اپنے سماجی رابطوں پر ضرور شئیر کریں۔

کاپا دوکیا میں بہار: پرستان میں پھول کھل اٹھے

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: