حرم پاک اور مسجد نبوی میں تصویر کشی اور وڈیو سازی پر پابندی عائد

0 338

سعودی عرب میں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کی جانب سے تصویر کشی اور ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سعودی جنرل ڈائرکٹوریٹ آف پریس اینڈ انفارمیشن کے بموجب مسجد حرام ( مکہ مکرمہ ) اور مسجد نبوی ﷺ( مدینہ منورہ ) میں تصویر کشی اور وڈیو سازی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سعودی وزارت خارجہ نے کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس امتناع کا اطلاق نہ صرف زائرین پر ہی نہیں بلکہ وہاں میڈیا پر بھی ہوگا۔ اس پابندی کا فیصلہ ان دونوں حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس امتناع کا اطلاق حرمین شریفین کے اطراف دیگر مساجد کے پاس بھی ہوگا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس امتناع کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ زائرین کی جانب سے تصویر کشی اور ویڈیو بنانے کی وجہ سے وہاں نمازیوں اور عبادات میں مصروف افراد کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس لئے بھی عائد کیا گیا ہے تاکہ وہاں زائرین صحتمندانہ ماحول میں اور پرسکون انداز میں عبادات کرسکیں۔ اگر اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو وہاں بنائی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز کو ضبط کرلیا جائے گا اور قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ یہ پابندی ایسے وقت میں عائد کی گئی ہے جب حال ہی بڑھتے ہوئے سعودی عرب اسرائیل تعلقات میں ٹائم آف اسرائیل کے صحافی کو مسجد نبوی ﷺ میں جانے کی خصوصی اجازت دی گئی۔ اس یہودی صحافی نے مسجد نبوی کے اندر اپنی شناخت کے ساتھ تصاویر اور وڈیوز بنائیں اور اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ڈال دیں۔

 


واضح رہے کہ غیر مسلمانوں کو مکہّ کا دورہ کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور انھیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مدینہ کے مرکزی حصے میں داخل نہ ہوں جہاں مسجدِ نبوی واقع ہے۔ یہودی صحافی نے کہا ہے کہ اب سعودی عرب کے تمام مقدسات غیر مسلموں کے کھلے ہیں اور وہ جا سکتے ہیں۔
جیسے ہی یہ تصاویر پھیلیں دنیا بھر میں مسلمانوں میں تشویش اور غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ خود عربوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ٹویٹر پر عربی میں بننے والے ہیش ٹیگ #صهيوني_بالحرم_النبوي "مسجد نبوی ﷺ میں ایک یہودی” کی مدد سے لاکھوں عربوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
ایک عرب ٹویٹر صارف نے لکھا کہ "علماء جیلوں میں جبکہ یہودی مسجد نبوی میں ہیں، یہ پریشان کن ہے”۔ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا تھا "آل سعود کے دور میں یہودی اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمن پیغمبر ﷺ کی مسجد کی بےحرمتی کر رہے ہیں”۔
سعودی حکومت نے فوری طور پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کی جانب سے تصویر کشی اور ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

تبصرے
Loading...