‏PKK حامیوں کا جرمنی میں ترک مسجد پر حملہ

0 164

‏PKK دہشت گرد گروپ کے حامیوں نے جرمنی میں ترک اسلامی یونین برائے مذہبی امور (DITIB) کی ایک مسجد کی دیوار پر ‏PKK کی حمایت میں نعرے لکھ دیے۔

شمالی رائن-ویسٹفالیا صوبے میں رائن-سیگ ضلع میں واقع ایتورف جامع مسجد پر بدھ کی شب ‏PKK حامیوں نے حملہ کیا اور اس کی دیواروں کو نشانہ بنایا۔

مسجد انتظامیہ کے سربراہ عرفان سرال نے کہا کہ انہوں نے فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

سرال نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ ذمہ دار افراد جلد پکڑے جائیں گے اور انہیں اس حملے کا مجرم قرار دیا جائے گا۔

جرمنی میں مساجد پر حملے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ 2019ء میں جرمنی میں مساجد پر 184 حملے ریکارڈ ہوئے – یعنی اوسطاً ہر ایک دن چھوڑ کر ایک حملہ۔ حال ہی میں، سنیچر کی شب، دو نامعلوم افراد نے جنوبی جرمنی کے شہر وائی ہنجن میں DITIB کی فاتح مسجد کے دروازے پر سؤر کا سر لٹکا دیا تھا۔

PKK جو ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جا چکی ہے، نے 35 سالوں سے ترکی کے خلاف دہشت گردانہ مہم شروع کر رکھی ہے اور تقریباً 40،000 افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے کہ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہونے کے باوجود PKK یورپی شہریوں میں آزادانہ کام کر رہی ہے اور ان کے حامیوں کو جرمنی میں ریلیاں نکالنے، عسکریت پسند بھرتی کرنے اور فنڈز اکٹھے کرنے کی اجازت ہے، جہاں 50 لاکھ ترک اور کرد بھی مقیم ہیں۔ PKK کو جرمنی میں 1993ء سے پابندیوں کا سامنا ہے لیکن وہ اب بھی متحرک ہے اور تقریباً 14،000 کارکن ملک میں پائے جاتے ہیں۔

کولون میں قائم DITIB جرمنی میں بڑی اسلامی تنظیموں میں سے ایک ہے۔ اس کا قیام 1984ء وزارت مذہبی امور (دیانت) کی ایک شاخ کی حیثیت سے عمل میں آیا تھا، جو ترکی کا سب سے بڑا مذہبی ادارہ ہے۔

DITIB اس وقت جرمنی میں 857 مساجد کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں کہ جہاں پر تقریباً 1،100 امام موجود ہیں۔ بیشتر امام ترکی کی جانب سے مقرر کردہ ہیں اور یہ جرمنی میں چار سال خدمات انجام دینے کے بعد ترکی لوٹتے ہیں۔

تبصرے
Loading...