عراق اور شام سے لاحق دہشت گردی خطرات پر ترکی کے اقدامات بلاشبہ قانونی ہیں: ایردوان

0 443

صدر مملکت اور انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے انقرہ میں آق پارٹی کے مشاورت و جائزہ اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے آرمینیائی مسئلے پر کو بین الاقوامی سطح پر ترکی کو دباؤ میں لانے کے لیے آزمایا جانے والا ہتھیار قرار دیا۔ "ترکی دوسری ریاستوں کی طرح ہرگز ایسا ماضی نہیں رکھتا جو شرمناک ہو۔ بلقان جنگوں کے دوران اور ان کے بعد ہم نے 20 لاکھ بہنوں اور بھائیوں کی قربانی دی، جن میں عورتیں، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔ مشرقی و جنوب مشرقی اناطولیہ میں آرمینیا اور روس کے حملوں میں ہمارے شہری شہید ہوئے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ میں چناق قلعہ، ساریقامش، گلیسیا اور فلسطین جیسے علاقوں یا اپنی جنگِ آزادی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حوالہ دے ہی نہیں رہا کہ جن میں بڑے پیمانے پر ہمارے فوجیوں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔ میں صرف شہری ہلاکتوں کا حوالہ دے رہا ہوں۔ آرمینیائی منتقلی ایک صدی قبل آزمایا گیا ایک طریقہ تھا تاکہ ایسے بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔ آرمینیائی منتقلی نہ ہی نسل کُشی تھی اور نہ ہی عظیم سانحہ، لیکن ایک افسوس ناک واقعہ ضرور تھا جو ایک صدی قبل بہت مشکل حالات میں پیش آیا۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "جو ترکی پر الزام لگاتے ہیں اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں 7 کروڑ افراد کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ ایسے معاملات پر گفتگو اور سچ کی تلاش کے لیے پارلیمنٹ اور انتظامی عمارات درست مقامات نہیں، سچ کے لیے ہمیں آرکائیوز دیکھنے چاہئیں۔” اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی کے آرکائیوز محققین اور مؤرخین کے لیے کھلے ہیں، صدر ایردوان نے دیگر ممالک سے آرمینیائی مسئلے پر اپنے آرکائیوز کھولنے کا مطالبہ کیا۔

"دنیا اور جس علاقے میں ترکی واقع ہے، وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے زبردست تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے، جن میں سے بیشتر تبدیلیاں ایسی ہیں جو عوام کے تحفظ، امن و ترقی کے لیے خطرہ ہیں،” صدر ایردوان نے کہا۔

عالمی نظام کو تہہ و بالا کرنے والے مختلف شعبوں میں اٹھائے گئے امریکی اقدامات کے مسلسل اثرات پر صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم S-400 سمیت مختلف معاملات پر امریکہ سے مختلف رائے رکھتے ہیں، جس کی شام میں پالیسیاں ہمارے اتحادی تعلق کے لیے کسی بھی لحاظ سے فائدہ مند نہیں۔ ترکی کے اٹھائے گئے اقدامات اور عراق و شام سے درپیش دہشت گردی کے خطرات کے خلاف اس کے آپریشنز کی قانونی حیثیت پر کوئی شک نہیں۔ البتہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکا مسلسل علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور ہماری سالمیت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر اعتراضات کررہا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے، ہمارے لیے اپنے ملک کی آزادی اور عوام کا مستقبل زیادہ اہم ہے۔ ایک قوم کی حیثیت سے کہ جس نے 15 جولائی کو ایک مقصد کے لیے اپنی جان تک خطرے میں ڈالی، ہم شام میں دہشت گردی کی دلدل کے خاتمے کے ساتھ ساتھ S-400 سمیت اپنی حفاظت کے لیے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔”

تبصرے
Loading...