صدر ایردوان کی فرانسیسی و جرمن سربراہان کو فون کال، تعاون کا مطالبہ

0 326

صدر رجب طیب ایردوان نے جمعے کو فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون اور جرمن چانسلر انگیلا مرکیل سے فون پر رابطہ کیا۔ انہوں نے جرمنی کے شہر ہناؤ میں ہونے والے دہشت گرد حملے اور ادلب اور لیبیا میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔

ایردوان نے ہناؤ میں نسل پرستانہ حملے میں جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور اسلاموفوبیا، غیر ملکیوں سے خوف اور نسلی امتیاز پر مبنی حملوں کی مذمت کی۔

وسطی جرمنی کے شہر ہناؤ میں ہونے والے حملے میں جانیں دینے والے 9 افراد میں سے 5 ترک شہری ہیں۔

شامی مسئلے پر صدر ایردوان نے کہا کہ بشار اسد حکومت اور اس کے پشت پناہوں کے جارحانہ اقدامات کو روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خطے میں کوئی انسانی بحران پیدا ہونے سے روکنے کے لیے مضبوط اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔

شمال مغربی علاقے ادلب میں روس کی پشت پناہی رکھنے والی اسد حکومت کی ترکی کی حامی حزبِ اختلاف کے خلاف جارحانہ کارروائیوں سے تقریباً 10 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

لیبیا کے بارے میں صدر ایردوان نے کہا کہ بہتر پالیسیوں کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ لیبیا کے عوام امن و استحکام پا سکیں۔

یہ فون کال مرکیل اور ماکرون کی جانب سے روس کے صدر ولادیمر پوتن سے فون رابطے کے بعد ہوئی ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ شام میں بحران کے خاتمے کے لیے اُن سےاور صدر ایردوان سے ملنا چاہتے ہیں۔

اپنی فون کال میں مرکیل اور ماکرون نے "شام کے صوبہ ادلب میں انسانی بحران پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔”

جرمن چانسلر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں یورپی رہنماؤں نے "بحران کے سیاسی حل کے لیے صدر پوتن اور صدر ایردوان کے ساتھ ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔”

تبصرے
Loading...