ترکی ایغور مسلمانوں کی چین میں آزادانہ زندگی کو اہمیت دیتا ہے، انہیں برابر کے شہری حقوق ملنا چاہییں، صدر ایردوان کی چینی صدر کو کال

0 1,589

صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پانگ سے ٹیلی فون کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی ایغور مسلمانوں کی چین میں آزادانہ اور پُرامن زندگی کو اہمیت دیتا ہے، انہیں برابر کے شہری ملنے چاہیں۔ صدر ایردوان اور صدر جن پانگ کے درمیان ٹیلی فون پر چین اور ترکی کے مابین کورونا وائرس وباء اور ویکسین سمیت باہمی تعاون کے دیگر شعبوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

ترک صدارت اطلاعات کے بیان کے مطابق، فون کال میں ترک چین تعلقات، علاقائی پیش رفت خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، نقل و حمل اور صحت کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ یاد دلاتے ہوئے کہ اس سال ترکی اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے، صدر ایردوان نے اظہار خیال کیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کے شایان شان اس سالگرہ منانے کی توقع رکھتے ہیں۔

دونوںرہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے مابین علاقائی، عالمی سفارتکاری اور معیشت کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات موجود ہیں، صدر ایردوان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین اعلی سطح کا مشترکہ ورکنگ گروپ اس تعاون کو تیز کرے گا۔

ملک کی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، چینی صدر نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ ویکسین معاملات پر کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں اور وبائی بیماری کو جلد از جلد شکست دینے میں مدد کریں گے۔

دریں اثنا، صدرایردوان نے چین کے مشرقی ترکستان جو سنکیانگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے وہاں صدیوں سے رہائش پذیر ترک اقلیت ایغور مسلمانوں کی چین کے یکساں شہری ہونے کی حیثیت سے خوشحالی، آزادی اور پُرامن زندگی کی اہمیت کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی۔

ایغور مسلمانوں کی چینی صدر جن پانگ سے بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے واضع کیا کہ ترکی، چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور اس کو برقرار رکھتے ہوئے ایغور مسائل کا حل چاہتا ہے۔

سنکیانگ خطے میں تقریباً 45 فیصد آبادی ایغور مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ایک عرصے سے اسے ثقافتی ، مذہبی اور معاشی امتیاز کا سامنا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے عہدیداروں اور اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق، سنکیانگ میں 10 لاکھ افراد، یا تقریباً 70 فیصد مسلم آبادی کو "سیاسی بحالی” کیمپوں میں قید کیا گیا ہے۔

تبصرے
Loading...