امریکا YPG کا اخراج یقینی بنائے، صدر ایردوان کا زور

0 436

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ انقرہ امریکا سے توقع رکھتا ہے کہ وہ شمالی شام سے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے دہشت گردوں کے اخراج میں سہولت کاری دے گا، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ترکی اپنا آپریشن دوبارہ شروع کردے گا۔

استنبول میں منعقدہ انسدادِ تمباکو نوشی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ” اپنے امریکی اتحادیوں سے ہمیں توقع ہے کہ وہ اس مرتبہ اپنے وعدے پورے کریں گے۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ شمالی شام میں ملک کی انسدادِ دہشت گردی مہم کے دوران YPG کے کُل 765 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا گیا، جن میں کچھ بڑے عہدیدار بھی شامل ہیں، جبکہ 1,500 مربع کلومیٹر کا علاقہ دہشت گرد گروپ سے چھڑایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر YPG نے 120 گھنٹے کے بعد علاقے سے اخراج نہ کیا تو ترکی فوری طور پر اپنا آپریشن شروع کردے گا۔

ایردوان نے مزید کہا کہ ترکی نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، YPG کے دہشت گردوں اور دوسرے فریقین کے ساتھ نہیں۔ اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی سیف زون سے YPG کے اخراج کا فائدہ اٹھائے گا، ایردوان نے کہا کہ انقرہ سیف زون کے علاقے کو اپنے تحفظ میں لے گا اور "ہم نے اس کے لیے کافی تحقیق کر رکھی ہے اور تمام منصوبے تیار ہیں۔”

ترکی نے 9 اکتوبر کو اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے، شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی اور شام کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے آپریشن چشمہ امن کا آغاز کیا تھا۔ ترکی بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ آپریشن کر رہا ہے، جس کا ہدف دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں دہشت گردوں سے پاک ایک سیف زون کا قیام اور وہاں شامی باشندوں کی واپسی کو ممکن بنانا ہے کہ جو اس وقت امریکا کی پشت پناہی سے کام کرنے والی شامی جمہوری افواج (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جن میں سب سے بڑی اکثریت YPG کے دہشت گردوں کی ہے۔

17 اکتوبر کو ترکی نے طے شدہ سیف زون سے YPG کے دہشت گردوں کے اخراج کے لیے وقت دینے کی خاطر 120 گھنٹے کے لیے آپریشن چشمہ امن کو روکا۔

صدر ایردوان اور امریکی نائب صدر مائیک پنس نے شام میں 20 میل (32کلومیٹر) عریض سیف زون کے قایم کے لیے ترکی کے ساتھ اتفاق کیا۔

PKK – جسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں – نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا نتیجہ تقریباً 40,000 لوگوں کی اموات کی صورت میں نکلا ہے، جن میں عورتیں، بچے بلکہ شیرخوار تک شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...