جنوبی ایشیاء کا استحکام اور خوشحالی مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں: ایردوان

0 641

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمیں فوری اور انتہائی ضروری بنیادی اصلاحات کے لیے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں قدم اٹھانے چاہئیں۔ ترکی ایک متحرک اور انسان دوست خارجہ پالیسی کے ساتھ پوری دنیا اور انسانیت کو قبول کرتا ہے اور مسائل کے منصفانہ حل پانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے انسانی امداد کے لحاظ سے دنیا کے سخی ترین ملک کا خطاب حاصل کیا کیونکہ ان کا ملک دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد کی میزبانی کر رہا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔

خطاب کے دوران صدر نے کہا کہ "آج دنیا کو کئی چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے جو عالمی پیمانے پر ہونے والی ناانصافی کا نتیجہ ہیں۔ ہماری تہذیب کے عظیم دانش وَر رومی نے ایک بار انصاف کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ "لوگوں کے حقوق و فرائض مناسب طریقے سے بانٹنا اور حق کو حق دار تک پہنچانا۔” بلاشبہ آج نہ ہی ذمہ داریاں اور نہ ہی حقوق مناسب طریقے سے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ناانصافی عدم استحکام، اقتدار کے حصول کے لیے کھینچا تانی، بحران اور ظلم و زیادتی کو جنم دیتی ہے۔ آج ہم جس انجمن میں یہاں جمع ہیں وہ بھی دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم کی گئی تھی کہ جس کا اصل مقصد ناانصافی کا خاتمہ تھا۔ بلاشبہ بین الاقوامی برادری مرحلہ بہ مرحلہ دہشت گردی، بھوک، بدحالی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے مسائل کے حل تلاش کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوئی ہے کہ جو ہمارے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

"دنیا کے ایک حصے کا عیش و عشرت کی زندگی گزارنا اور دوسرے حصے میں لوگوں کا غربت کی چکی میں پس جانا ناقابلِ قبول ہے”

بلاشبہ 74 ویں اجلاس کے لیے جنرل اسمبلی کا موضوع بہت خوب ہے "غربت کے خاتمے، معیاری تعلیم، موسمیاتی عمل اور شمولیت کے لیے کثیر سطحی کوششوں کو قوت فراہم کرنا۔” لیکن اہمیت اس بات کی ہے کہ مل جل کر ہم کیا حاصل کر پاتے ہیں۔ یہ امر ناقابلِ قبول ہے کہ دنیا کا ایک حصہ تو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے اور ترقی کے مزے لوٹے جبکہ دوسری جانب لوگ غربت، بدحالی اور جہالت میں پس رہے ہوں۔ یہ دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے کہ دنیا کی ایک خوش قسمت اقلیت ڈجیٹل ٹیکنالوجی، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور موٹاپے کی باتیں کرے جبکہ دو ارب سے زیادہ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں اور ایک ارب سے زیادہ لوگ بھوک سے دوچار ہوں۔

ہم ان حقائق سے پہلو تہی نہیں کر سکتے کیونکہ جب تک ہم سب محفوظ نہیں ہو جاتے، ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہوگا۔ اسی جگہ سے میں کئی سالوں سے کہتا آ رہا ہوں کہ انسانیت کی تقدیر چند ملکوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ آج ایک مرتبہ پھر زور دے رہا ہوں کہ دنیا پانچ ملکوں سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ ایسا کرنا بہت عرصے سے ضروری ہے کہ ہم اپنی موجودہ ذہنیت، اداروں اور قواعد میں تبدیلیاں لائیں۔

"آئیے نیوکلیئر ہتھیاروں کا مسئلہ منصفانہ انداز میں حل کریں”

عالمی توازن کو بگاڑنے کے لیے نیوکلیئر اور غیر-نیوکلیئر ریاستوں کے درمیان عدم مساوات ہی کافی ہے۔ کسی بھی ذی ہوش فرد کی طرح یہ بات ہمیں بھی پریشان کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تلف کرنے کے بجائے ہر بحران میں انہیں تزویراتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نیوکلیئر طاقت کا حصول یا تو سب کے لیے ممنوع ہو یا پھر اس کی اجازت سب کو ہونی چاہیے۔ انسانیت کے پرامن مستقبل کے لیے آئیے یہ مسئلہ منصفانہ انداز میں جلد از جلد حل کریں۔

"ترکی مسائل کے منصفانہ حل کی جدوجہد کرتا ہے”

"ہمیں فوری اور انتہائی ضروری بنیادی اصلاحات کے لیے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں قدم اٹھانے چاہئیں۔ ترکی ایک متحرک اور انسان دوست خارجہ پالیسی کے ساتھ پوری دنیا اور انسانیت کو قبول کرتا ہے اور مسائل کے منصفانہ حل پانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے انسانی امداد کے لحاظ سے دنیا کے سخی ترین ملک کا خطاب حاصل کیا کیونکہ ان کا ملک دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد کی میزبانی کر رہا ہے۔” تیسری افریقی یونین-ترکی پارٹنرشپ سمٹ 2020ء میں ترکی میں ہوگی جو ہماری متحرک اور انسان دوست پالیسی کی ایک اور مضبوط مثال ہے۔ میں ہال میں موجود تمام ممالک کو مدعو کرتا ہوں کہ ہماری پالیسیوں اور منصوبوں کی تائید کریں کہ جو ہم نے انصاف، اخلاقیات اور ضمیر کی آواز پر تیار کیے ہیں۔

آج شام ایسا ملک بن چکا ہے جو انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ تو رہا ہے لیکن ساتھ ہی عالمی ناانصافی کی علامت بھی بن چکا ہے۔ 2011ء سے اس ملک کی حکومت اور وہاں کی دہشت گرد تنظیمیں بلکہ افواج بھی دائمی بحران کی پالیسی کی پیروی کر رہی ہیں۔ شام میں بحران کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے کہ جو تقریباً 1 ملین افراد کی موت، 12 ملین کے بے گھر ہونے اور تقریباً نصف ملین کے ملک چھوڑنے کا سبب بنا۔

اگر انسانیت کے لیے ترکی کی سرکاری امداد کا کُل قومی پیداوار سے تقابل کریں تو ترکی دنیا کا سخی ترین ملک ہے۔ ہم پانچ ملین مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں کہ جو اس تنازع میں بھوک اور ظلم سے بھاگ کر یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یعنی امریکا کی 29 ریاستوں کی آبادی سے زیادہ تو ترکی میں مہاجرین ہیں۔ 3 ملین 650 ہزار افراد ہمارے ملک میں شام سے آئے ہیں۔ یعنی ہماری سرزمین پر موجود شامی بھائیوں اور بہنوں کی تعداد نیو یارک کی آدھی آبادی کے برابر ہے۔ ہم پچھلے آٹھ مہینوں میں ان افراد پر 40 ارب ڈالرز خرچ کر چکے ہیں۔

"مہاجروں کی خاطر اقدامات اٹھانے کے لیے ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا”

ترکی آنے والے 3,65,000 مہاجرین بحفاظت اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ تقریباً آدھے شاہ پناہ گزینوں کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔ ترکی میں جنم لینے والے شامی بچوں کی تعداد ہی 5,00,000 تک پہنچ چکی ہے۔ ہم نہ صرف انہیں رہائش کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ انہیں ضروری خدمات بھی دے رہے ہیں خاص طور پر صحت اور تعلیم۔ بدقسمتی سے دنیا شامی مہاجرین کی بقاء کی جدوجہد کو بہت جلدی بھول گئی کہ جن کی زندگیاں یا تو بحیرۂ روم کے گہرے پانیوں میں ڈوب گئیں یا سرحدوں کے ساتھ لگی باڑھوں کے خلاف دم توڑ گئیں۔ لیکن انہیں نہیں بھولے اور نہ ہی ان بچوں کو بھولیں گے کہ جن کی بے سدھ لاشیں ساحلوں پر پڑی ملتی رہِیں۔

اِس سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ہم نے 32,000 غیر قانونی مہاجرین کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا۔ اس کے علاوہ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ہم نے ، شامیوں کے علاوہ، 58,000 غیر قانونی مہاجرین کو اپنے ملکوں کو واپس بھیجا۔ ترکی شام کے علاوہ دنیا کے دوسرے حصوں سے بھی آنے والے پانچ ملین مظلوموں کی میزبانی کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے ان کوششوں میں ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

"جب شام ایک مستقل سیاسی حل تک پہنچ جائے گا تو ملک کی علاقائی سالمیت بھی قائم ہو جائے گی”

شام کے ان علاقوں کی جانب درحقیقت کوئی واپس نہیں جا پایا جو حکومت یا دہشت گرد تنظیموں PKK-YPG اور داعش کے قبضے میں ہیں۔ ترکی کی جانب سے آزاد کرائے گئے اور بعد ازاں محفوظ قرار دیے گئے علاقے ہی ہیں کہ جہاں اپنی جانیں بچا کر ملک سے بھاگنے والے شامی باشندے واپس آ پائے ہیں۔ آج ہمیں تین اہم مسائل کا سامنا ہے کہ جن پر شام کے انسانی بحران کو حل کرنے کے لیے بے حد غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا یہ کہ آئینی کمیٹی کا مؤثر اور سیر حاصل انداز میں کام کرنا کہ جسے ہم شام کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اکائی کے لیے ایک اہم عمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے اوائل میں ہونے والے انقرہ اجلاس میں ہم روس اور ایران کے ساتھ بہت کامیاب نتیجے تک پہنچے۔ جب شام ایک پائیدار سیاسی حل تک پہنچ جائے گا تو ملک کی علاقائی سالمیت بھی خود بخود بحال ہو جائے گی۔

دوسرا اہم مسئلہ اِدلب میں ایک ممکنہ قتلِ عام اور چار ملین افراد کی ہجرت کی ممکنہ لہر سے بچنا ہے۔ اس مسئلے پر سُوچی میں روس کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا، وہ کچھ دھچکے لگنے کے باوجود بدستور موجود ہے۔ ترکی ہجرت کی ایک اور لہر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے اور نہ ہی اسے سنبھالنے کی ہمت۔ اس لیے ہم تمام ممالک سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ادلب میں سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ترکی کی کوششوں کا سہارا بنیں گے۔

"شام میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں سے یکساں انداز میں نمٹے بغیر ہم مسئلہ شام کا کوئی مستقل اور دیرپا حل نہیں نکال پائیں گے”

تیسرا اہم مسئلہ دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں PKK-YPG کے دہشت گرد ڈھانچے کا خاتمہ ہے کہ جو شام کے چوتھائی علاقے پر قابض ہیں اور نام نہاد شامی جمہوری افواج کے نام سے خود کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شام میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں سے یکساں انداز میں نمٹے بغیر ہم شام کے مسئلے کا کوئی مستقل اور دیرپا حل نہیں نکال پائیں گے۔

شام میں ایک سیف زون کے قیام کے لیے امریکا کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے۔ ہم تیس کلومیٹر چوڑی اور 480 کلومیٹر طویل امن راہ داری بنانا چاہتے ہیں کہ جہاں بین الاقوامی برادری کے تعاون سے دو ملین شامی باشندوں کا قیام ممکن ہوگا۔ اگر ہم اس علاقے کی چوڑائی دیر الزور – رقہ لائن تک بڑھا پائے تو ہم وطن واپس جانے والے شامی باشندوں کی تعداد تین ملین تک پہنچا سکتے ہیں جو ترکی، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں سے اپنے وطن واپس پہنچ سکتے ہیں۔ ہم اس معاملے پر پورے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ضروری تیاریاں شروع بھی ہو چکی ہیں۔

"ترک اور ترک قبرصی باشندوں کے مفادات کا آخری دم تک تحفظ کریں گے”

شام کے بحران کے علاوہ بحیرۂ روم کے طاس میں بھی کچھ مسائل سامنے آئے ہیں۔ 50 سال کے مذاکرات کے باوجود قبرص کا معاملہ یونانی قبرص کے غیر مصالحت پسندانہ رویّے کی وجہ سے اب تک حل نہیں ہو سکا۔ یونانی قبرص جبر کی ایک غیر منصفانہ پالیسی رکھتا ہے کہ ترک قبرص باشندوں کو سیاسی اثر و رسوخ اور ترقی دینے سے انکاری ہے۔ ترکی ترک قبرصی باشندوں کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ضامن ہے کہ جن کے ساتھ ترکی کے گہرے تاریخی و ثقافتی تعلقات ہیں۔ جو قبرص کے مسئلے کو”زیرو سکیورٹی، زیرو گارنٹی” کی شرط کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں، وہ ابتداء ہی سے بد نیت ہیں۔ دوسری جانب ترکی ایسے حل تک پہنچے کی کوشش کرتا رہے گا کہ جو ترک قبرصی باشندوں کی سلامتی اور حقوق کی ضمانت دے۔

"لیبیا کی سیاسی و معاشی خود مختاری شمالی افریقہ اور یورپ دونوں کے لیے سکھ کا سانس ہوگی”

بحیرۂ روم کے ساتھ واقع ایک اور اہم خطے لیبیا میں ہماری کوشش ہے کہ عوامی رائے پر مبنی ایک جمہوری انتظامیہ قائم کرکے ملک میں سلامتی و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ لیبیا کی سیاسی و معاشی خود مختاری شمالی افریقہ اور یورپ دونوں کے لیے سکھ کا سانس ہوگی۔ اس ملک کے لیے اصل حل لیبیا کے عوام کی پسند کا احترام کرنے میں ہے۔

اِس سال ایک صحافی جمال خاشقجی، جنہیں پچھلے سال بے رحمی سے قتل کردیا گیا تھا اور مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر محمد مرسی، کہ جنہوں نے انتہائی مشتبہ حالت میں کمرۂ عدالت میں اپنی جان دی، خطے میں انصاف و مساوات کی علامات بن کر ابھرے۔

"1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا فوری قیام ہی حل ہے”

آج اسرائیل کے قبضے میں موجود فلسطینی علاقے کرۂ ارض کے ان علاقوں میں سےا یک بن چکے ہیں کہ جہاں سب سے زیادہ ظلم و ناانصافی ہے۔ اگر ایک سڑک پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ظالمانہ انداز میں قتل کی جانے والی فلسطینی خاتون کی کچھ دن پرانی تصویریں بھی ضمیر کو نہ جھنجھوڑ پائیں تو سمجھ جائیں ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ پھر موجودہ اسرائیلی انتظامیہ بین الاقوامی اور انسانی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جارحانہ اقدامات کے ذریعے غزہ کا غیر انسانی محاصرہ کیے ہوئے ہے، وہ غیر قانونی آباد کاری اور القدس کی تاریخی و قانونی حیثیت پر حملے کر رہی ہے۔

ترکی اس معاملے پر ایک واضح موقف رکھتا ہے۔ 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور یکساں فلسطینی ریاست کا قیام کہ جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، یہی ایک حل ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور امن صوبہ منصفانہ، قابلِ قبول اور قابلِ نفاذ نہیں ہوگا۔ اب میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پوچھتا ہوں کہ ریاست اسرائیل کی سرحدیں کہاں ہیں؟ کیا وہ 1948ء کی سرحدیں ہیں؟ 1967ء کی سرحدیں ہیں یا اُن کی سرحدیں کچھ اور ہیں؟ گولان کی پہاڑیوں اور مغربی کنارے کی آبادیوں پر دن دیہاڑے قبضہ کیا گیا جیسا کہ فلسطینی علاقوں پر کیا گیا تھا۔

"ترکی فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا”

بین الاقوامی برادری کے تمام کرداروں خاص طور پر اقوام متحدہ کو فلسطینی عوام کے لیے وعدے وعیدوں سے بڑھ کر ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس ضمن میں مشرقِ قریب میں فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی کا اپنی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری رکھنا بہت اہم ہے۔ ترکی فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا جیسا کہ آج تک ان کے شانہ بشانہ رہا ہے۔

جنوبی قفقاز کے مسئلے کا منصفانہ اور پُرامن حل بھی ضروری ہے کہ جو دنیا کے چند متنازع علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ امر ناقابلِ قبول ہے کہ نگورنا کاراباخ اور ملحقہ علاقے، جو آذربائیجان کا حصہ ہیں، قراردادوں کے باوجود اب بھی قبضے میں ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ کہ جس پر بین الاقوامی برادری توجہ نہیں دے رہی، کشمیر کا ہے کہ جو 72 سال سے اپنے حل کا انتظار کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کا استحکام اور خوشحالی مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ کشمیری عوام کو ایک محفوظ مستقبل دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے اور منصفانہ و برابری کی بنیاد پر حل کیا جائے، تصادم کے ذریعے نہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ جس سے دنیا نظر چرا رہی ہے، روہنگیا مسلمانوں کا ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت ایک آزاد انکوائری کمیشن نے میانمر کی راکھائن ریاست میں پیش آنے والی واقعات کے پسِ پردہ "نسل کشی کاارادہ” ظاہر کیا ہے۔ ترکی روہنگیا مسلمانوں کی سلامتی اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھاتا رہے گا اور ان کی انسانی امداد کے لیے کام جاری رکھے گا جیسا کہ پہلے دن سے کر رہا ہے۔

جنگ، تنازعات اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے مسلسل 40 سال بعد بھی افغانستان عالمی سطح پر ایک چیلنج ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ اس قدیم تہذیب کو امن و سلامتی سے روشناس کرایا جائے۔ اس لیے بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کرنا ہوں گی۔

"عالمی امن کو درپیش سب سے بڑا خطرہ نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت، امتیازی سلوک اور اسلام مخالف رحجانات کا ہے”

آج عالمی امن اور سکون کو درپیش بڑے خطرات میں سے ایک نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت، امتیازی و اسلام مخالف رحجانات کا ہے۔ مسلمان نفرت انگیزی، امتیازی سلوک اور اپنی مقدس اقدار کی توہین کے معاملے میں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال رواں سال مارچ میں کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ میں ہونے والا دہشت گرد حملہ ہے۔ جس طرح نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کو ہدف بنانے والا دہشت گرد حملہ غلط تھا، اسی طرح سری لنکا میں مسیحی برادری اور امریکا میں یہودیوں کو کو نشانہ بنانا بھی دہشت گردی ہے اور اتنا ہی غلط ہے۔

تارکینِ وطن خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف تعصب اور ان کے استحصال نےاس بیمار ذہنیت کے رحجان کو راستہ دکھایا۔ اس ظلم کو محض باہمی ارادے اور کوشش سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کروں گا کہ وہ کرائسٹ چرچ حملے کے دن یعنی 15 مارچ کو "اسلاموفوبیا کے خلاف اظہارِ یکجہتی کا عالمی دن” قرار دے۔ میں اسلامی دنیا کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ خاص طور پر شیعہ-سنی تقسیم کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لے کہ جس نے باہمی تنازعات کے لیے میدان فراہم کیا اور ساتھ ہی متعدد تنازعات میں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

تبصرے
Loading...