وینزویلا کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ، اسلامی تعاون تنظیم کے غیرمعمولی اجلاس کے خصوصی شریک

0 606

بدھ کے روز استنبول میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے غیر معمولی اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے سربراہان نے شرکت نہیں کی لیکن کئی مہمانوں نے خصوصی شرکت کی جن میں وینزیلا کے صدر نکولیس میڈیورو اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف شامل تھے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے اس غیر معمولی اجلاس کا اہتمام ترک صدارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دے کر سفارت خانہ کھولنے کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔

وینزیلا ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے امریکی صدر کے اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے امریکی فیصلہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا: "میں کہنے پر مجبور ہے کہ یہ فیصلہ اشتعال انگیزی اور عربوں، مسلمانوں اور دنیا کے اچھے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ ہے”۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ترک صدر ایردوان کی تائید کرتے ہوئے بیت المقدس کو مسلمانوں کے لیے سرخ لائن قرار دے دیا تھا۔

ترک تجزیہ نگار دیناز زیرک نے وینزیلین صدر کی شرکت پر صدر ایردوان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وینزیلا کو غیر ضروری پلیٹ فارم فراہم کرنے کا باعث بنے ہیں۔ انہوں نے ٹی وی ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینزیلا امریکا کے خلاف اسلامی دنیا کی حمایت چاہتا ہے

وینزیلا کے صدر نے اسلامی تعاون تنظیم کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مسلمان رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں خصوصی شرکت پر اپوزیشن رہنماء عمران خان نے تنقید کی اور اعتراض اٹھایا کہ باقی صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو کیوں نہیں بلایا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ترکی کے ساتھ مسلمانان برصغیر کے روایتی تعلقات کا احیاء کیا ہے اور نئے عالمی نظام میں اسے نیا وجود بخشا ہے۔ انہوں نے ترک حکومت کے ساتھ معاشی، سماجی اور ثقافتی منصوبوں کو تکمیل تک پہنچایا ہے۔ وہ بین الاقوامی ایشوز پر ترک صدر ایردوان کے فیصلوں کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے صدر ایردوان کی طرف سے اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس بلانے کا خیر مقدم کیا اور اس مسئلے پر ترکی کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم کیا۔ انہیں ترک حکومت نے اجلاس میں شرکت کے لیے خصوصی دعوت دی

پاکستان کے باقی صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی جانب سے ترکی کے ساتھ  تعلقات بڑھانے کی کوششیں نہیں کی گئیں جبکہ اپوزیشن رہنماء عمران خان نے ترک صدر ایردوان کا پارلیمنٹ میں بائیکاٹ کر کے ترک پالیسی سازوں کے اذہان پر بُرے اثرات چھوڑے۔

تبصرے
Loading...