آپریشن چشمہ امن نے بیک وقت کئی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے، اسی لیے اتنا ہنگامہ پیدا کیا جا رہا ہے، صدارتی ترجمان

0 540

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا کہ "آپریشن چشمہ امن نے بیک وقت کئی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے اور ممکنہ طور پر اس کی بازگشت مستقبلِ قریب میں خطے میں سنائی دیتی رہے گی۔”

صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایوانِ صدر میں ایک پریس کانفرنس کی اور صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیے۔

"ہماری پہلی ترجیح میدان میں موجود اپنے فوجی دستوں کی حفاظت ہے”

براہِ راست نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا کہ "آپریشن چشمہ امن کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے، بلکہ پوری دنیا ہی اس آپریشن پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اور ہم بھی بہت غور سے پوری صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ لیکن میں اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کرنا چاہوں گا کہ ہمارا پہلی اور اوّلین ترجیح میدان میں موجود اپنے فوجی دستوں کی حفاظت ہے اور ہماری دعائیں اور تمام تر مدد ان کے ساتھ ہے۔

اس آپریشن پر یورپ، امریکا یا کسی بھی ملک کے کسی بھی تبصرے سے زیادہ اہم ہمارے فوجی دستوں کی حفاظت، ان کا مورال، اپنے اہداف کا حصول اور فتح کہ جو آپریشن کے دوران ان کی کامیابی کا نتیجہ ہوگی۔

"ہم دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں موجود دہشت گرد عناصر کا صفایا کرنے کا عزم رکھتے ہیں”

آپریشن چشمہ امن کے بارے میں اس شور و ہنگامے کی بہت سی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ اس آپریشن سے کئی خفیہ سازشوں کو بے نقاب کیا ہے۔ یہی اس شور و ہنگامے کی وجہ ہے۔ آپریشن چشمہ امن نے بیک وقت کئی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور ممکنہ طور پر اس کی بازگشت مستقبلِ قریب میں خطے میں سنائی دیتی رہے گی۔”

کچھ حلقوں کو ہو سکتا ہے ترکی کے اس قدم سے حیرت ہوئی ہے کہ جس نے اپنے قومی مفادات کو مقدم جانتے ہوئے یہ قدم اٹھایا جبکہ دنیا میں طاقت کا توازن اس وقت نئی صورت لے رہا ہے۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ جو ترکی کو جانتے ہیں، ترک ریاست، ترک قوم اور ترک فوج کی تاریخ اور ہمارے ماضی کا تھوڑا بہت بھی اندازہ رکھتے ہیں انہیں ہرگز حیرت نہیں ہوئی ہوگی۔ جس طرح ہم نے ماضی قریب میں آپریشن فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون کے ذریعے اپنی سرحدوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا، اسی طرح ہم دریائے فرات کے مشرقی علاقے سے بھی تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ بلاشبہ ہم اس سے پیدا ہونے والے جغرافیائی اور سیاسی دھچکوں کو دیکھ رہے ہیں۔ البتہ تنقید، پابندیوں کی دھمکیاں، مذمتیں ہمیں ہمارے جائز مقاصد سے ہٹا نہیں سکتیں۔ ترکی میدانِ عمل میں اور مذاکرات کی میز پر بھی اپنی طاقت اور حکمتِ عملی کا استعمال جاری رکھے گا۔

آپریشن منصوبے کے مطابق جاری ہے۔ اپنے آٹھویں دن آپریشن سے توقعات سے بہت پہلے زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن علاقوں کو ہماری فوج نے محفوظ بنایا ہے وہاں امن، استحکام اور تحفظ کا ماحول ہے۔ اس کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ہیں، جنہوں نے PKK دہشت گرد تنظیم اور شام میں اس کی شاخوں کو پالا پوسا، پشت پناہی کی، تربیت دی اور مالی طور پر ان کو مدد فراہم کی۔

ہمیں ایک اور حقیقت جان لینی چاہیے کہ PKK اور شام و عراق میں اس کی شاخیں ایک پراکسی تنظیم ہیں، ایک عالمی مہرہ جسے بین الاقوامی طاقتوں سے استعمال کیا ہے۔ ہم یہ شام میں واضح طور پر دیکھ چکے ہیں۔ یہ ممکنہ طور پر ماضی قریب میں سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک ہے کہ داعش کے خلاف لڑنے کے نام پر اس تنظیم کی پشت پناہی کی گئی، اسے ترویج دی گئی اور اس کے ساتھ ایک ریاستی عنصر کا رویہ رکھا گیا۔ ہم ماضی میں بھی ایسا ہی دیکھ چکے ہیں۔ جو آپریشن چشمہ امن پر ہنگامہ کر رہے ہیں وہ دراصل شامی خطے میں اپنے مہروں کے میدان سے باہر ہونے پر وحشت زدہ ہیں۔

"PKK کی شکست کو کردوں کے نقصان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے”

وہ PKK کی شکست کو کردوں کے نقصان کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور میں یہ بات واضح کرنا چاہوں گا کہ اس بات کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ دہشت گرد تنظیم اپنے ایجنڈ ے کو ہمارے کرد بھائیوں اور بہنوں کا مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر کہنا چاہوں گا کہ ہم اپنے کرد بھائیوں اور بہنوں کو ایک دہشت گرد تنظیم سے الگ سمجھتے ہیں۔

شام میں ایسے لاکھوں کرد ہیں جنہوں نے اس دہشت گرد تنظیم کے مارکس اور لینن سے وابستہ نظریات، علیحدگی پسند ایجنڈے اور دہشت گرد طریقوں کو کبھی قبول نہیں کیا۔ ہمارا ہدف اپنے کرد بہنوں اور بھائیوں کے علاوہ شام میں موجود دیگر اقوام – عربوں، ترکمانوں، مسیحیوں،کو اس تنظیم کے مظالم سے بچانا ہے۔

آپریشن چشمہ امن اپنے اہداف کے حصول تک اسی رفتار کے ساتھ جاری رہے گا۔ اور الحمد للہ، ہمارے اہداف بالکل واضح ہیں کہ ہم اپنی سرحدوں کے ساتھ موجود علاقوں کو دہشت گرد عناصر سے پاک کرنا چاہتے ہیں یعنی داعش، PYD/YPG اور ایسی ہی دہشت گرد تنظیموں سے۔ پھر ہم ترک شہروں، قصبوں اور دیہات سے مہاجرین کی ان علاقوں کو واپسی کو یقینی بنائیں گے کہ جنہیں ہم اس آپریشن کے ذریعے محفوظ بنا رہے ہیں۔ یہ کام رضاکارانہ بنیادوں پر ہوگا اور مہاجرین کی اپنے علاقوں کو واپسی باوقار انداز میں ہوگی۔

صدر مملکت چار سال تک دنیا کے سامنے واشگاف انداز میں کہتے رہے اور ہم نے واضح طور پر دیکھ لیا کہ ان علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی کرانے کے لیے دنیا کچھ نہیں کرے گی۔ اس لیے یہ آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

تبصرے
Loading...