ترکی کی آٹو برآمدات میں تقریباً 30 فیصد کی کمی

0 232

ترکی کی آٹوموٹو انڈسٹری کو پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال مارچ کے مہینے میں برآمدات میں تقریباً 28.5 فیصد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کروناوائرس کی وباء کی وجہ سے پوری آٹوموٹو انڈسٹری میں پیداوار تقریباً رُک چکی ہے۔

اولوداغ آٹوموٹو انڈسٹری ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کےاعداد و شمار کے مطابق مارچ میں صنعتی برآمدات کُل 2.1 ارب ڈالرز کی رہی اور اس مہینے میں ملک کی کل برآمدات کا 15.4 فیصد تھی۔ مارچ کے اعداد و شمار پہلی سہ ماہی میں زوال کے رحجان کے مطابق ہیں کہ جس میں بیرونِ ملک فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں 10 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

مارچ میں مسافر کاروں کی برآمدات 33 فیصد گھٹتے ہوئے 789 ملین ڈالرز تک آ گئی، جبکہ آٹو پارٹس کی فروخت میں سال بہ سال کی بنیاد پر 19 فیصد کمی ہوئی جو 770 ملین ڈالرز رہ گئی۔

ترک کی آٹو پارٹس اور مسافر کاروں کی سب سے بڑی مارکیٹ جرمنی کے لیے پرزوں کی برآمد میں 22 فیصد جبکہ فرانس کو ہونے والی برآمدات میں 42 فیصد کمی آئی۔ برطانیہ اور اٹلی کو کی جانے والی برآمدات میں بالترتیب 28 اور 34 فیصد کی کمی دیکھنے کو ملی۔

وبائی مرض کی وجہ سے دنیا بھر میں کاروں کی پیداوار معطل ہونے سے کاروں کی مقامی طور پر رسد کو بھی نقصان پہنچا ہے کہ جہاں ڈیلرز طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ٹویوٹا ترکی کے سی ای او علی حیدر بوزکرت نے کہا ہے کہ ڈیلرز کے لیے اسٹاک کی دستیابی 300 سے 400 کاروں تک رہ گئی ہے۔ "بدقسمتی سے نئی گاڑیوں کی فروخت پیداوار کے دوبارہ آغاز تک ممکن نہیں ہوگی۔”

بوزکرت نے کہا کہ آٹومیکرز کی جانب سے پیداوار کے دوبارہ آغاز یا حکومت کی جانب سے عوام کی نقل و حرکت کو آسان کرنے کے لیے لاک ڈاؤن ختم کرنے تک اپریل یا آئندہ مہینوں کے لیے کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

عالمی سطح پر بھی آٹوموبائل انڈسٹری اس وبائی مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔ ترکی سمیت دنیا بھر میں گاڑیاں بنانے والے اداروں کو اپنے کارخانے بند کرنے اور عارضی طور پر پیداوار معطل کرنے پر مجبور ہیں۔

فورڈ آٹوسان نے حال ہی میں شمال مغربی صوبہ کوجائیلی اور وسطی اناطولیائی صوبے اسکی شہر میں اپنی پیداوار معطل کی ہے۔ دیگر ترک آٹومیکرز، بشمول اویاک رینو، ٹویوٹا ترکی اور فیئٹ اور ترکی کی کوچ ہولڈنگز کا مشترکہ منصوبہ توفاش بھی اپنی پیداوار روک چکے ہیں۔

شعبے سے وابستہ نمائندوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ 2020ء کے اوائل میں ایک ایسا وقت آیا کہ جب طلب رسد سے بڑھ گئی لیکن کروناوائرس کی وجہ سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ اپریل کا مہینہ سب سے زیادہ جمود کا شکار ہوگا۔

تبصرے
Loading...