بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے فائدے اور نقصانات، ترکی کے لیے مضمرات

محمد علی گولر

0 1,704

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ (BRI)، جسے "وَن بیلٹ، وَن روڈ” منصوبہ بھی کہا جاتا ہے، کا اعلان پہلی بار 2013ء میں چینی صدر شی جِن پنگ نے کیا تھا۔ اس کثیر القومی اقتصادی منصوبے کا بنیادی محرّک بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سرمایہ کاری اور تجارت کے ذریعے باقی دنیا سے منسلک ہونے کی چینی ضرورت تھی۔ چند ممالک، جیسا کہ امریکا، BRI کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ چین کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے میں کسی بھی ملک کی شرکت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ اگر کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے تو BRI اقتصادی و ثقافتی تبادلوں کے ذریعے ملکوں کے درمیان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

BRI کی دو مرکزی شاخیں ہیں جن میں سے پہلی سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے ذریعے چین کو یورپ کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ سیان سے شروع ہوتی ہے، پھر قزاقستان، ایران اور ترکی سے ہوتے ہوئے جرمنی میں ڈوئس برگ تک پہنچتی ہے۔ اس کی دیگر شاخیں بھی ہیں جیسا کہ چین-منگولیا-روس، چین اور پاکستان کے درمیان اور چین اور بنگلہ دیش-میانمر-بھارت کے درمیان۔

Photo credit: Middle East Institute

دوسری شاخ نیو میری ٹائم سلک روڈ یعنی نئی بحری شاہراہِ ریشم ہے جو چین کو جنوب مشرقی ایشیا، خلیجی ممالک اور شمالی افریقہ کی بندرگاہوں کے ذریعے یورپ سے منسلک کرتی ہے۔ یہ گوانگ ژو سے شروع ہوتی ہے اور آبنائے ملاکا سے ہوتی ہوئی، بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان کی بندرگاہوں سے وینس تک جاتی ہے۔

چین کے فوائد اور اخراجات

BRI منصوبوں کی مالیت تقریباً 1 سے 8 ٹریلین ڈالرز ہے۔ اس کے فوائد کا بڑا حصہ فطرتاً چین کو ہی جائے گا، امریکا یا مغرب کو نہیں، کیونکہ وہی اِس عظیم منصوبے کا سب سے بڑا حصہ دار ہے۔ اس کے علاوہ چین 300 ارب روپے کی موجودہ سرمایہ کاری کے بعد آئندہ سالوں میں 1 ٹریلین ڈالرز خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کی ایک مثال چین-پاکستان اقتصادی راہداری میں چین کی جانب سے 60 ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہے۔

چین دعووں اور تنقیدوں کے باوجود عالمی سطح پر منصوبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ دعوے اور تنقیدیں چین اور کمبوڈیا، جبوتی، منگولیا اور پاکستان جیسے ممالک کے درمیان تعلقات کا نتیجہ ہیں۔ چند ایسے حلقے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ یہ ممالک چینی قرضے میں جکڑے جائیں گے۔ البتہ خاص طور پر غریب اور چھوٹے ممالک بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پانے کے لیے متبادل راستے دیکھنے چاہئیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں ملائیشیا نے چین کے بنائے گئے ایسٹ کوسٹ ریل لنک پروجیکٹ میں 30 فیصد سے زیادہ کی واضح رعایت کا مطالبہ کیا گیا۔

کوئی بھی ملک جو اتنی بڑی سرمایہ کاری کرے فطرتاً اپنے سیاسی و اقتصادی فوائد تو دیکھے گا۔ مثال کے طور پر مارشل پلان کا بنیادی مقصد دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ ممالک کی تعمیرِ نو اور انہیں کمیونزم کے پھیلاؤ سے بچانا تھا۔ چینی نقطہ نظر کے مطابق چین کے منصوبے پہلے ہی ملک کو بلاواسطہ یا بالواسطہ اپنے عالمی نہیں تو علاقائی اتحاد اور بلاکس بنانے میں مدد دے چکے ہیں۔ البتہ چین نے قرض کے جال میں پھانسنے سمیت دیگر تمام دعووں کو ردکیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رواں سال کے دوسرے BRI فورم کا نام تبدیل کرکے "بیلٹ اینڈ روڈ تعاون: روشن تر مشترکہ مستقبل کی تعمیر” رکھا گیا۔

بین الاقوامی کامیابیاں

دنیا بھر میں مختلف سرمایہ کاریوں کے علاوہ چین نے دیگر ممالک کو اس دائرے میں لانے کی کامیاب پالیسی بھی چلائی۔ اس ضمن میں تقریباً 130 ممالک اور 29 بین الاقوامی انجمنیں ہیں جو BRI کے ڈھانچے تلے چین کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کر چکی ہیں۔

اس سال کے BRI فورم میں 37 ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ 90 بین الاقوامی تنظیموں کے تقریباً 5,000 نمائندگان موجود تھے جن کو ملا کر حاضرین کا تعلق 150 ممالک سے تھا۔ اٹلی، پہلا G7 ملک جس نے BRI کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ کیا، نے فورم میں وزیر اعظم کی سطح پر شرکت کی۔ مزید برآں، تمام آسیان ریاستیں موجود تھیں کیونکہ چین ایشیا بھر میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ چین اور شریک ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 6 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کا ہے، یعنی کوئی ملک چین کی اقتصادی پہنچ سے دور نہیں رہنا چاہے گا۔

شی جن پنگ نے یکساں ہدف کے لیے باہمی اتحاد، عالمگیریت اور عالمی انتظام پر زور دیا جبکہ ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام یا protectionism کی مخالفت کی۔ انہوں نے متعدد مسائل جیسا کہ ملکیتِ دانش کے تحفظ کے ساتھ ساتھ چینی مارکیٹ تک بہتر اور وسیع تر رسائی کے لیے نئی اصلاحات اور تبدیلیوں کے آغاز کا اشارہ دیا۔ مزید اہم یہ کہ انہوں نے BRI کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ BRI کے تمام ممالک میں عوام مرکزی معاشی و سماجی ترقی کی رہنمائی کریں گے۔

چین BRI کے ذریعے پہلے ہی سیاسی و اقتصادی ذرائع کو نئی سطح پر لےجانے کے لیے خود کو بہتربنا چکا ہے۔

چین کی زیر قیادت اداروں کی شرکت

بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے شی جن پنگ نے 2013ء میں ایشین انفرا اسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک (AIIB) کے قیام کی تجویز دی تھی۔ یہ 100 ارب ڈالرز کا سرمایہ رکھتا ہے جس میں چین سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر ہے۔ اس وقت یہ 97 اراکین پر مشتمل ہے جبکہ 27 مزید ممبرز متوقع ہیں۔ AIIC پروگرامز ایسے اہم اہداف رکھتے ہیں جن میں علاقائی تکمیل اور اقتصادی ترقی کی ترویج شامل ہیں۔ AIIB کی ویب سائٹ کے مطابق عالمی سرمایہ کاری کے کُل منصوبے تقریباً 8 ارب ڈالرز کے ہیں۔ ترکی AIIB میں 2.5 ارب ڈالرز کے فراہم کردہ سرمائے کے ساتھ 2.52 فیصد ووٹنگ طاقت رکھتا ہے۔

چین کا اپنے منصوبے جاری رکھنے کے لیے ایک اور ابتدائی قدم سلک روڈ فنڈ ہے۔ 2014ء میں اس فنڈ کی ابتدائی مالیت 40 ارب ڈالرز تھی۔ سلک روڈ فورم کی باضابطہ ویب سائٹ کے مطابق اس فنڈ کا سرمایہ اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج (65 فیصد)، ایکسپورٹ-امپورٹ بینک آف چائنا (15 فیصد)، چائنا انوسٹمنٹ کارپوریشن (15 فیصد) اور چائنا ڈیولپمنٹ بینکس کی جانب سے فراہم کیا گیا۔ یہ فنڈ دنیا بھر میں سرمایہ کاری منصوبے، فرانس اور پاکستان جیسے ممالک اور یورپین انوسٹمنٹ بینک جیسے اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدے رکھتا ہے۔

ترکی کے لیے مضمرات

BRI ترکی کے لیے ممکنہ طور پر فائدہ مند یا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ترکی کو باہمی مفاد کی پالیسی کی پیروی کرنی چاہیے۔

یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ترکی ایک انوکھے جغرافیائی مقام پر واقع ہے، جو اسے تین براعظموں کے درمیان پُل بناتا ہے۔ مزید برآں، ترکی کا جمہوری نظام، کشادہ دِلی اور سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی لحاظ سے جامعیت ترکی کو BRI کے دیگر علاقائی ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔

چین سیاسی و اقتصادی لحاظ سے آگے بڑھ رہا ہے، تو ترکی کو اپنی پالیسیوں کو ترجیح دینی چاہیے کہ وہ چین سے کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔

چین ترکی کی اقتصادی و ٹیکنالوجی جدت کے لیے متبادل بن سکتا ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک کے درمیان کسی سیاسی اضطراب کے نتیجے میں دیگر ایشیائی ممالک ترکی کے حلقے میں موجود ہونے چاہئیں۔

اپنے شعبوں میں حفاظتی اقدامات اٹھاتے ہوئے BRI کو ایک فائدہ مند موقع سمجھنا معقول بات ہے۔ 1990ء اور پھر 2000ء کی دہائی کے اوائل میں ترکی سستی چینی مصنوعات کا سیلاب نہیں آنا چاہیے۔

BRI کے ساتھ تعاون ترکی معاشی اور قیمتی مصنوعات بنانے کی ٹیکنالوجی میں انقلاب کو آسان کرے گا۔ BRI کے تعاون سے ترکی اور چین میں تعلق میں باہمی تعلق بہت اہم ہے۔

BRI کے تحت خطے کے سرمایہ کاری مرکز کی حیثیت سے ترکی کو دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں اپنی امتیازی حیثیت کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

BRI میں شمولیت کے ساتھ آنے والا ممکنہ تجارتی حجم بہت بڑا ہے۔ ترکی اپنی صلاحیتوں، شعبوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی صلاحیت کے مطابق BRI میں مارکیٹیں تلاش کر سکتا ہے۔

کیونکہ BRI بنیادی طور پر اقتصادی فوائد پر مبنی ہے، اس لیے ترکی کو خارجہ پالیسی کے مخمصے میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ مغرب کا اتحادی ہے اور اس منصوبے کی وجہ سے چین کے ساتھ بھی ہوگا۔

آخر میں، متبادل ہمیشہ موجود رہتے ہیں کہ جن میں جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ اقتصادی و ٹیکنالوجی اتحاد شامل ہیں۔

BRI ہو سکتا ہے ابھی دیوانے کا خواب لگتا ہو کیونکہ اس منصوبے کے مکمل صلاحیت کے ساتھ ادراک میں کافی وقت درکار ہے۔ البتہ چین دنیا بھر میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ذریعے اس خواب کو حقیقت بنانے لگا ہے۔ یہ چین کا 21 ویں صدی کا منصوبہ ہے، جس کا اصل محرّک افریقہ سے یورپ اور ایشیا سے امریکا تک دیگر ممالک کو خود سے جوڑنے کی کوشش ہے۔البتہ باقی دنیا کے لیے یہ غیر حقیقت پسندانہ خواہش ضرور ہو سکتی ہے، خاص طور پر BRI میں شریک قرضے لینے والوں کے لیے۔

اگر کوئی متصادم سیاسی پہلو نہ ہوں تو BRI کو تمام انسانیت کے لیے ایک بہترین منصوبہ سمجھا جا سکتا ہے۔ چین نے چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک(CGTN) کے ذریعے BRI منصوبوں کو "مائی اسٹوری” جیسی مہمات کے ذریعے سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب کمبوڈیا کے باشندوں کی اپنے شہروں میں چینی سرمایہ کاریوں کے بعد بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شکایات کو بہت کم اخبارات میں جگہ ملی۔ مزید برآں، یہ منصوبہ مکمل کرنے کے لیے ممالک کو ایک مضبوط، صحت مند، مؤثر اور کامل تعاون کا میکانزم درکار ہے جو تمام شرکاء کو، چھوٹی، درمیانی یا بڑی طاقت سے قطع نظر، بقیہ مسائل، خطرات اور تعاون کی سطح پر گفتگو کے لیے باہمی مفاہمت فراہم کرتا ہے۔

سب کے لیے روشن مستقبل کی تعمیر کی خاطر BRI کے ڈھانچے تلے کوئی ایک مسئلہ اقتصادی یا سیاسی آلہ نہیں بننا چاہیے ۔

تبصرے
Loading...