صدر پوتن جنوری میں ترکی کا دورہ کریں گے، ترک صدارتی ترجمان

0 110

صدر رجب طیب ایردوان کے ترجمان نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمر پوتن جنوری کے پہلے ہفتے میں ترکی کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ابراہیم قالین نے کہا کہ دونوں ممالک کے صدور ترک اسٹریم نیچرل گیس پائپ لائن کے علاوہ PKK سے منسلک دہشت گرد گروپ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شامی علاقوں سے اخراج کے معاملے پر انقرہ اور ماسکو کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات پر بھی بات کریں گے۔

معاہدے کے تحت ترکی اور روس معاہدے کے تحت اخراج کے لیے دیے گئے 150 گھنٹے مکمل ہونے کے بعد علاقے میں چھ مشترکہ گشت مکمل کر چکے ہیں ۔

ترکی نے 9 اکتوبر کو آپریشن چشمہ امن کا آغاز کیا تھا جو داعش اور PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) سے منسلک دہشت گردوں کو ہدف بنانے کے لیے شمالی شام میں ہونے والا تیسرا آپریشن ہے۔ شام میں ترک فوجیوں پر YPG کی جانب سے درجنوں حملے کیے جا چکے ہیں۔

آپریشن اپنے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔ اس کا ہدف دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں شامی باشندوں کے لیے دہشت گردوں سے پاک سیف زون قائم کرنا ہے۔ یہ علاقہ امریکا کے حامی شامی جمہوری افواج (SDF) کے ماتحت ہے، جس میں YPG کے دہشت گردوں کی اکثریت ہے۔

انقرہ نے 17 اکتوبر کو واشنگٹن کے ساتھ اتفاق کیا تھا کہ وہ عارضی طور پر آپریشن روک دے گا تاکہ YPG/PKK دہشت گرد طے شدہ سیف زون سے نکل جائیں۔

22 اکتوبر کو انقرہ اور ماسکو نے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت YPG/PKK دہشت گرد 150 گھنٹوں کے اندر شام کے ساتھ واقع ترکی کی سرحد سے 30 کلومیٹرز دور نکل جائیں گے، اور ترکی اور روس کی افواج وہاں مشترکہ گشت کریں گی۔

تبصرے
Loading...