نسل پرستی کا خاتمہ صرف مشترکہ عزم و ارادے سے ہی کیا جا سکتا ہے، ترک وزیرِ خارجہ

0 80

ترک وزیرِ خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے اپنے جرمن ہم منصب سے کہا ہے کہ نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت (xenophobia) کا خاتمہ صرف مل جل کر اور مشترکہ عزم و ارادے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

وہ ٹوئٹر پر جرمن وزیرِ خارجہ ہیکو ماس کے ایک ٹوئٹ کا جواب دے رہے تھے، جو انہوں نے دو دہائیاں پہلے نیو-نازی شدت پسند گروپ نیشنل سوشلسٹ انڈر گراؤنڈ (NSU) کی جانب سے انور شمشک کے قتل کے حوالے سے کیا تھا۔

ماس نے کہا کہ "انور شمشک کو 20 سال پہلے چند نیو-نازیوں نے گولی مار دی تھی اور دو دن بعد ان کی وفات ہو گئی تھی۔ کئی لوگ اسے ‘کباب قتل’ اور انہیں ‘ترک’ کہتے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ :انور شمشک ایک خاندانی آدمی اور گل فروش تھے۔ وہ ہم میں سے ایک تھے۔”

اس پر ترک وزیر نے کہا کہ "عزیزم ہیکو، ان خیالات پر آپ کا شکریہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پچھلے 20 سال میں ہم اتنے قریب نہیں آئے، جتنا ہمیں آنا چاہیے تھا۔ ہم نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے خوف کو مل کر اور مشترکہ عزم و ارادے سے ہی شکست دے سکتے ہیں۔ خدا شمشک کی مغفرت کرے۔”

انور شمشک کو نورمبرگ شہر میں 9 ستمبر 2000ء کو آٹھ گولیاں ماری گئی تھیں، جہاں وہ پھول بیچا کرتے تھے۔

2006ء تک اسی طرح چھ مزید افراد کو قتل کیا گیا۔ ان جرائم کو جرمن میڈیا "کباب قتل” کہتا ہے، کیونکہ مرنے والے چند لوگ ترک فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں کام کرتے تھے۔

نورمبرگ میں تقریباً 300 لوگ شمشک کی یاد میں جمع ہوئے۔ اس موقع شرکاء جرمن شہر سے گزرے اور اس مقام تک گئے جہاں شمشک کو قتل کیا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...