استنبول میں رمضان: بھرپور رونق انکساری کے ساتھ

0 1,009

رمضان، وہ مہینہ کہ جس کا دنیا بھر کے مسلمان سال بھر انتظار کرتے ہیں، آ چکا ہے اور اس مقدس مہینے کا لطف اٹھانے کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک استنبول ہے۔ رمضان کے روزے، جو اسلام کے پانچ بنیادی اراکین میں سے ایک ہیں یعنی کہ اعلانِ شہادت، نماز پنجگانہ، زکٰوۃ اور حجِ بیت اللہ کے علاوہ،اس مہینے میں مسلمان صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں اور تزکیہ نفس کی مشق کرتے ہیں تاکہ غرباء اور مساکین کو درپیش مسائل کا احساس ان کےاندر اجاگر ہو۔

سابق عثمانی دارالخلافہ صدیوں تک اسلامی خلافت کا مرکز رہا ہے، اس لیے یہ کرۂ ارض پر موجود عظیم ترین روحانی شہروں میں سے ایک ہے۔ گو کہ یہاں کی صبحیں کچھ خاموش ہوتی ہیں، لیکن افطار کے بعد استنبول جاگ اٹھتا ہے اور رمضان کے مشغلے صبح تک جاری رہتے ہیں۔ استنبول باسی رمضان کی خوشیوں کا بھرپور لطف اٹھاتے ہیں اور چند مقامات ایسے ہیں کہ جہاں ہر مسلمان کو جانا چاہیے اور اس کے ماحول کا تجربہ اٹھانا چاہیے۔

سلطان احمد اور نیلی مسجد

تاریخی جزیرہ نما میں واقع سلمان احمد رمضان کے دوران استنبول میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے۔ اس علاقے میں، جہاں آیاصوفیہ اور نیلی مسجد دونوں واقع ہیں، صدیوں تک عثمانی سلاطین کا مسکن بھی رہا۔ رمضان کے دوران استنبول باسی اور ترکی بلکہ دنیا بھر کے لوگ سلطان احمد چوک پر آتے ہیں۔ کچھ نیلی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، جو نیلی، سبز اور سفید ازنک ٹائلوں سے مزین ہے، کچھ اس چوکے کے سبزہ زاروں پر افطار کرتے ہیں اور یوں سلطان احمد کے روحانی ماحول میں اپنے افطار کو ایک عمدہ پکنک میں بدلتے ہیں ۔

ایوب سلطان مسجد

ایوب سلطان مسجد ایک اور ایسا مقام ہے جو رمضان کے دوران بہت سارے سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتا ہے۔ یہ استنبول کی قدیم اور اہم ترین مساجد میں سے ایک ہے، جو عثمانی سلطان محمد ثانی کے ہاتھوں فتحِ استنبول کے فوراً بعد تعمیر کی گئی۔ یہ مقام حضرت ابو ایوب انصاری کا مزار رکھتا ہے، جو استنبول کی تاریخ کی ایک اہم اسلامی شخصیت ہیں، جہاں مسلمان سال بھر لیکن رمضان میں بالخصوص خراجِ عقیدت پیش کرنے اور دعاؤں کے لیے آتے ہیں۔ مسجد میں تمام عمر کے افراد کے لیے رمضان کی متعدد سرگرمیاں ہوتی ہیں، قرہ غوز اور حاجیوات، براہِ راست صوفی موسیقی اور ورکشاپس وغیرہ۔ ایوب میں رمضان کی رونقیں سحری تک جاری رہتی ہیں۔

خرقہ شریف

استنبول کی خرقہ شریف مسجد ہر سال رمضان کے دوران ہزاروں افراد کا خیرمقدم کرتی ہے کیونکہ یہ یہاں پر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدیم لباس موجود ہے۔ یہ لباس لینن، سوت اور ریشم کا بنا ہوا ہے اور ایک خاص ڈبے کے اندر رکھا گیا ہے۔ یہ لباس اویس قرنی کے سپرد کیا گیا تھا کہ جو ساتویں صدی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے مدینے گئے تھے لیکن اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے رسول اللہ کو دیکھے بغیر یمن واپس آ گئے تھے۔ ان کی داستان سے متاثر ہوکر خضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ذریعے اپنا لباس اویس قرنی کو بھیجا اور انہیں یہ یمن میں موصول ہوا۔ اویس قرنی کی کوئی اولاد نہ تھی اور ان کے بعد یہ لباس ان کے بھائی کے حوالے کیا گیا اور اب بھی اسی خاندان کی ملکیت ہے۔ قرنی خاندان صدیوں تک جنوبی اناطولیہ میں رہا، البتہ بعد ازاں وہ ایجیئن علاقے کوشاداسی کو ہجرت کر گئے۔ 17 ویں صدی میں عثمانی سلطان احمد اول نے انہیں یہ مقدس لباس استنبول لانے کو کہا کہ جہاں دیگر قیمتی اشیاء بھی محفوظ کی جا رہی تھیں۔ استنبول آنے کے بعد چوغے کے صندوق کے لیے دو چابیاں بنائی گئیں، ایک سلطان کے لیے اور دوسری قرنی خاندان کے لیے۔ روایتی طور پر اسے ہر رمضان کے پہلے جمعے کو نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور رمضان کے اختتام تک یہ نمائش جاری رہتی ہے۔

توپ قاپی محل

صدیوں تک عثمانی سلاطین کا تخت رہنے کے ساتھ ساتھ توپ قاپی محل کئی مقدس تبرکات کا بھی مسکن ہے، جو اس محل کو رمضان کے دوران مسلمانوں میں مقبول مقام بناتے ہیں۔ جب عثمانی سلطان سلیم اول، جنہیں یاووز سلطان سلیم بھی کہا جاتا ہے، جزیرہ نما عرب فتح کیا تو تبرکات کے ساتھ ساتھ خلیفہ کا لقب بھی عثمانیوں کو منتقل ہو گیا۔ سلیم کے عہد کے آغاز کے ساتھ ہی یہ تبرکات سلطنت کے دارالحکومت استنبول لائے گئے اور محفوظ کرلیے گئے۔ ان میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خرقہ سعادت، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک، جو غزوہ احد میں شہید ہوا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشانوں کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط، کمان اور تلوار شامل ہیں۔ ان تبرکات میں قدیم مخطوطات، قرآن مجید کی اولین نقول اور اسلام کی اہم شخصیات سے تعلق رکھنے والی خوبصورت تختیاں شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...