کرائے کے سپاہیوں کے بعد روس کے باقاعدہ فوجی دستے بھی لیبیا میں

اس وقت لیبیا میں ویگنر گروپ کے 2,000 اہلکار بھی موجود ہیں

0 722

روس کے باقاعدہ فوجی دستے بھی لیبیا میں موجود ہیں، یہ انکشاف ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (DHRF) نے ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کرائے کے سپاہیوں اور غیر ملکی افواج پر زور دے رہی ہے کہ وہ اس جنگ زدہ ملک سے نکل جائے۔

ادارے کے سربراہ عماد الدین منتصر کے مطابق کہ لیبیا کی وزارتِ دفاع کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ روس کی فوج کے باقاعدہ سپاہی جفرہ ایئر بیس پر دیکھے گئے ہیں اور اس کے تصویری ثبوت اور ان کے محل وقوع کے ثبوت بھی دیے گئے ہیں۔ DHRF کے مطابق ان ثبوتوں کی نقول امریکا، یورپی یونین، برطانیہ اور لیبیا کی حکومتوں کو فراہم کی گئی ہیں۔

عماد الدین منتصر نے کہا کہ "گو کہ روس نے کم از کم 2017ء سے ملک میں ویگنر گروپ کے اراکین بھیج رکھے ہیں، لیکن روسی مسلح افواج کے باقاعدہ اراکین کی تعیناتی لیبیا، امریکا اور یورپی یونین کی قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی کے علاوہ ملک کے حالات میں مزید خرابی لانا ہے۔”

روس نے باغیوں کی مدد کے لیے لیبیا میں مزید دستے بھیج دیے

ویگنر گروپ 2014ء میں یوکرین میں بنایا گیا ہے اور یہ کاروباری شخصیت یوگنی پریگوژن کی ملکیت ہے۔ کئی تنازعات میں ملوث اس گروپ کو شام اور لیبیا میں سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں روس خانہ جنگی میں بھرپور حصہ لے رہا ہے۔ گو کہ روس ویگنر گروپ کے ساتھ باضابطہ تعاون سے انکار کرتا رہا ہے، لیکن حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔

منتصر نے مزید کہا کہ "ان فوجی دستوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ روس جلد لیبیا چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور قومی مذاکرات کے تحت 24 دسمبر تک آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے امکان کو مسترد کرتا ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ جہاں پوتن حکومت فوجی اڈے چلا رہی ہے وہاں آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کا ان علاقوں میں کوئی مستقبل نہیں۔

لیبیا میں روس نے اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ حکومت گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) سے اقتدار چھیننے کے لیے باغی جریل خلیفہ حفتر کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ وہی نہیں بلکہ فرانس، مصر اور متحدہ عرب امارات نے بھی 2019ء میں دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی میں خلیفہ حفتر کی پشت پناہی کی تھی۔

ترک ڈرونز نے لیبیا میں جنگ کی بازی کیسے پلٹ دی؟

امریکی فوج کی افریقی کمان کے مطابق اس وقت لیبیا میں ویگنر گروپ کے 2,000 اہلکار موجود ہیں اور وہ روس پر الزام لگاتی ہے کہ وہ لیبیا میں ویگنر گروپ کو رسد اور اسلحہ پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

لیبیا کے علاقوں سرتے اور جفرہ میں اس وقت ویگنر گروپ کے اڈے موجود ہیں۔

جنوری میں ہونے والے سیزفائر معاہدے کے تحت کرائے کے سپاہیوں کے لیبیا سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے، لیکن تمام تر مطالبات کے باوجود اس حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں دیکھی گئی۔

تبصرے
Loading...