امریکی سینیٹ میں ‏1915ء کے واقعات کو ‘نسل کُشی’ قرار دینے کی قرارداد روک دی گئی

0 326

ری پبلکن پارٹی کے سینیسر کیوِن کریمر نے امریکی سینیٹ کو اس قرارداد پر ووٹنگ سے روک دیا ہے کہ جو 1915ء کے واقعات کو "نسل کُشی” قرار دے دیتے، اور کہا کہ یہ اس قانون سازی کی منظوری کا درست وقت نہیں ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت رکھنے والے ایوانِ نمائندگان نے گزشتہ اکتوبر میں 11 کے مقابلے میں 405 کی اکثریت سے قرارداد منظور کی تھی۔ لیکن سینیٹ میں ووٹ نہیں ہو پایا کہ جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ری پبلکن نمائندے اکثریت رکھتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ایسے مرحلے پر جب انقرہ کے ساتھ حساس معاملات پر مذاکرات جاری ہیں، وائٹ ہاؤس ایسی قانون سازی نہیں چاہتا۔ امریکا اور ترکی کے مابین اس وقت شمالی شام میں ترکی کے انسدادِ دہشت گردی آپریشن اور روس کی جانب سے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کے معاملات زیر بحث ہیں کہ جن کا نتیجہ امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

یہ قرارداد زور دیتی ہے کہ یہ امریکی پالیسی ہے کہ وہ 1915ء کے واقعات کو "نسل کُشی” قرار دے۔

ترکی 1915ء کے واقعات کو "نسل کُشی” نہیں سمجھتا بلکہ ایک المیہ قرار دیتا ہے کہ جس میں پہلی جنگِ عظیم کے دوران ترک اور ارمنی دونوں کا نقصان ہوا۔

انقرہ اس معاملے پر تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی نگرانی میں ترکی اور آرمینیا کے ماہرین کا ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دینے کی بارہا تجویز دے چکا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے باب میننڈیز اور ری پبلکن کے سینیٹر ٹیڈ کروز سینیٹ میں ووٹ کے خواہش مند تھے۔ البتہ کریمر نے اسے روک دیا اور کہا کہ لندن میں نیٹو اجلاس کے موقع پر ترک اور امریکی صدور کے مابین ملاقات کے فوراً بعد ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ "سینیٹ میں ایک رکن بھی ایسا نہ ہوگا کہ جسے ترکی کے رویے کے حوالے سے سنجیدہ خدشات نہ ہوں۔ درست وقت پر ہم اس قرارداد کو ضرور منظور کریں گے۔”

مینینڈیز نے اس سے عدم اتفاق کیا اور کہا کہ ایردوان کے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد سے کچھ نہیں بدلا اور وہ اس معاملے کو اٹھانے کے لیے ہفتے میں ایک بار سینیٹ چیمبر ضرور آئیں گے۔

تبصرے
Loading...