استنبول کے تاریخی گرینڈ بازار کی بحالی مکمل

0 890

استنبول کے تاریخی جزیرہ نما کے ضلع فاتح میں واقع مشہورِ زمانہ گرینڈبازار کی چھت اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کی کوششیں بالآخر دو سال کی انتھک محنت کے بعد مکمل ہو گئی ہیں۔

558 سال پرانے ڈھانچے کی چھت کی بحالی عرصہ دراز سے تعطیل کا شکار تھی، جس پر غلط مقامات پر پانی کی ٹنکیاں، انٹینا اور ایئر کنڈیشننگ کے آلات نصب تھے جس سے بارشوں کے موسم میں چھت ٹپک رہی تھی۔ اس مرمت کا آغاز جولائی2016ء میں ہوا تھا۔ چھت اور ٹائلوں کو 2012ء کی جیمز بانڈ فلم "اسکائی فال” کے درمیان مزید نقصان پہنچا کہ جس میں تاریخی بازار کی حوبصورت چھت پر بونڈ کی جانب سے موٹر سائیکل پر تعاقب کا منظر شامل تھا۔ اس پر تب بھی عوام کی جانب سے سخت مذمت کی گئی تھی۔

630 دن پر مشتمل بحالی کی کوششوں کے بعد چھت پر موجود تمام اضافی سامان ہٹا دیا گیا ہے اور ٹائلوں کو ایک، ایک کرکے تبدیل کیا گیا ہے۔ چھت، جو 40 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، کے نیچے 66 گزرگاہیں اور 2486 دکانیں ہیں، جس کو مضبوط اور جدا کرنے کا کام کیا گیا اور اس کے بعد 8 لاکھ نئی سرخ ٹائلیں لگائی گئیں۔

دنیا کے قدیم ترین بازار کی بنیادیں بھی پچھلے تین سالوں میں استنبول کے نکاسی و فراہمی آب انتظامیہ (ISKI) کی جانب سے تبدیل کی گئی جس میں 48 ہزار مربع میٹر کے علاقے میں پینے کے پانی، گٹر کے پانی اور بارش کے پانی کے پائپس تبدیل کیے گئے۔

گرینڈ بازار بورڈ چیئرمین فاتح قرطلمش نے دمیرورن نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امید کی کرن ہمیشہ رہتی ہے اور جیمز بانڈ فلم کے دوران جو نقصان پہنچا اس کا نتیجہ بالآخر اچھا نکلا کیونکہ چھت کے مسائل عوام کے سامنے آئے اور حکومت کی مدد کے بعد بحالی کا کام ناممکن تھا۔ "یہاں کام کرنا مشکل ہے۔ ہمیں تو ایک کیل لگانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ ایک تاریخی عمارت ہے۔ یہ تمام آپریشنز گورنریٹ کی مدد اور کونسل برائے یادگار کی رضامندی سے ہوئے۔ لیکن ان سے پہلے گرینڈ بازار کے حوالے سے ایک قانون پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ اس کے مطابق ایک انتظامی بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس میں گورنریٹ، شہری بلدیہ، ضلعی بلدیہ اور صوبائی ڈائریکٹوریٹ وقف کے نمائندے شامل تھے۔” قرطلمش نے واضح کیا۔ بحالی کے اس عمل پر 30 ملین ترک لیرا (موجودہ شرح سے 4.9 ملین امریکی ڈالرز) خرچ کیے گئے جو کہ اب مکمل ہو چکا ہے۔

قرطلمش نے کہا کہ گرینڈ بازار کے دکانداروں کے خدشات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ ISKI نے "اسٹیٹ ماڈل” کی پیروی کی کی تاکہ پورے فراہمی و نکاسی آب کے نظام کو تبدیل کیا جا سکے اور اس کی مرمت ہو سکے، جس کے ذریعے تمام کام اس طرح مکمل کیا گیا کہ بازار ایک دن کے لیے بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

"گرینڈ بازار 2486 دکانوں کا مسکن ہے اور جہاں روزانہ ڈیڑھ لاکھ افراد آتے ہیں۔ اتوار کے دن اور شام 7 بجے کے بعد کے اوقات کو کاموں کے لیے مختص کیا گیا،” قرطلمش نے کہا اور بتایا کہ اب مرکزی دیواروں اور داخلی دیواروں کی بحالی کا کام کرنا ہے۔

قرطلمش نے کہا کہ سیاحوں کے لیے ایک مشاہدہ گاہ بنانے کا منصوبہ ہے تاکہ وہ اردگرد کے مناظر کا لطف اٹھا سکیں اور چند گزر گاہوں کو محدود پیمانے پر کھولنے کا بھی ارادہ ہے۔

گرینڈ بازار کی تعمیر کا آغاز 1455ء میں ہوا تھا، سلطان محمد ثانی کے ہاتھوں استنبول کی عثمانی فتح کے دو سال بعد تاکہ ساحلی شہر کی بڑھتی ہوئی تجارت کو سہولت دی جا سکے۔

بازار میں 60 ڈھکی ہوئی گلیاں ہیں، جن میں سے ہر گلی کا نام مخصوص اشیاء کے بیچنے والوں پر ہے جیسا کہ آلتن جولر (سونا فروخت کرنے والے)، بسما جیلر (چھپے ہوئے کپڑے بیچنے والے)، فیس چیلر (فیض ٹوپیاں بیچنے والے) اور اپلِک چیلر (سوتی دھاکے فروخت کرنے والے)۔ گرینڈ بازار اینٹوں کی چھتوں اور گنبدوں سے ڈھکا ہوا ہے اور اس میں 22 دروازے اور 29 مسافر خانے ہیں۔ یہ 20 نومبر 1651ء سے لے کر 20 نومبر 1954ء کے دوران 20 مرتبہ آتش زدگی کے واقعات اور متعدد زلزلے سہہ چکا ہے اور 1894ء کے زلزلے کے بعد موجودہ شکل میں بحال کیا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...