"ارطغرل” پاک ترک تعلقات کو عروج پر پہنچاتا ہوا

اسلام الدین ساجد

0 320

یہ ایک حسین دوپہر ہے اور سرخ ہلالی پرچم شمالی پاکستان کے مختلف کاروباری مقامات اور گھروں پر لہراتا ہوا نظر آ رہا ہے، جو اس علاقے کی ترکی کے ساتھ محبت کی ایک علامت ہے جو ایک ڈرامے کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن پر اردو ڈبنگ کے ساتھ نشر ہوتے ہی "دریلش: ارطغرل ” ملک بھر میں خوب مقبول ہوا ہے۔

اپریل کے وسط میں اس ڈرامے کے لیے خاص طور پر بنایا گیا یوٹیوب چینل اس وقت 85 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز رکھتا ہے اور اس کی ویورشپ رواں ماہ کے وسط تک 1.3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔

یہ تب ہوا جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ترکی کے دورے کے بعد سرکاری ٹیلی وژن پی ٹی وی کو حکم دیا کہ وہ اس ڈرامے کو اردو میں ڈب کرکے نشر کرے۔

پی ٹی وی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ سیریز یکم رمضان بمطابق 25 اپریل 2020ء کو لانچ ہوتے ہی یوٹیوب پر ٹرینڈ کر گئی۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن نے یہ سیریز ترک ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن TRT کے تعاون سے نشر کی ہے اور واقعی اس کو کہیں زیادہ ناظرین تک پہنچانے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ عوام میں اس سیریز کی دلچسپی اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔

پاکستانیوں میں ترکی کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں ملکوں کی دوستی اور محبت ہر جگہ ظاہر ہے۔

گلگت شہر میں رہنے والے جبران عزیز کہتے ہیں کہ "وہ ترکی سے قالین درآمد کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی دکان کا نام پاک-ترک کارپٹس رکھا ہے۔” خریدار بھی دکان پر لہراتے پاکستان اور ترکی کے پرچموں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع وادئ کاغان کے کئی ہوٹلوں پر بھی پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی اور چین کے پرچم لہراتے نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ، بالخصوص ناران، ملک میں سیاحت کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔ ان ہوٹلوں کے مالکان کا یہی کہنا ہے کہ یہ پرچم لگانا دوست ملکوں سے اظہارِ یکجہتی کی علامت ہے۔

ایک ہوٹل کے مالک زوہیب عامر نے کہا کہ "چین ہمارا اچھا دوست ہے، لیکن ترکی ہمارا بھائی ہے اور یہ پرچم لگانا ان ملکوں کے احترام اور ان سے محبت کا اظہار ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اچھے دوست وہ ہوتے ہیں جو ہر اچھے برے وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں اور یہ ملک یہ کام کر رہے ہیں۔

علاقے میں آنے والے سیاح بھی ان پرچموں کے ساتھ تصاویر لیتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح نے زرمینہ حسن نے کہا کہ مجھے سرخ ہلالی پرچم بہت پسند ہے اور مجھے ترکی سے محبت ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان میرے پسندیدہ رہنما ہیں۔

صدر ایردوان مسلمانوں کے معاملات پر واضح اور دو ٹوک مؤقف رکھنے اور خاص طور پر کشمیریوں کی حمایت کی وجہ سے پاکستان میں بہت مقبول ہیں۔

62 سالہ فضل رحمٰن خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی سرحد پر واقع خوبصورت مقام بابوسر میں ایک نیا ہوٹل چلاتے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے ہوٹل پر پاکستان کے مشہور بیلسٹک میزائل ‘غوری’ اور ‘شاہین’ کے ساتھ ساتھ ترکی اور چین کے پرچم لگا رکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں نے یہ ہوٹل پچھلے سال کھولا تھا تو اسلام آباد سے ترکی کا پرچم لایا تھا تاکہ میں ترکوں سے اپنی محبت ظاہر کر سکوں۔ مجھے طیب ایردوان بہت پسند ہیں۔ وہ ایک حقیقی مسلم رہنما ہیں اور میری خواہش ہے کہ دنیا کے دوسرے مسلمان لیڈرز بھی انہی کے نقش قدم پر چلیں اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کریں۔”

فروری میں صدر ایردوان کے دورۂ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے دو طرفہ تجارتی، معاشی اور ثقافتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

پاکستان اور ترکی کا تجارتی حجم پچھلے پانچ سالوں میں 600 ملین ڈالرز سے بڑھ کر 800 ملین ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔

تبصرے
Loading...