لیرا کی واپسی کے بعد ترکی میں قیمتیں گھٹنا شروع ہو گئیں

0 1,043

ترک لیرا کی واپسی کے بعد ترکی میں خوردہ فروشوں (ریٹیلرز) نے متعدد مصنوعات کی قیمتیں کم کرنا شروع کر دی ہیں۔

پرچون فروشوں، دکانوں اور سپر مارکیٹوں نے حالیہ چند ماہ میں اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی تھیں، جس کی وجہ بنیادی طور پر لیرا کی قدر میں آنے والا زوال تھا جبکہ افراطِ زر کی شرح نومبر میں 21.3 فیصد تک جا پہنچی تھی۔

گزشتہ ہفتے صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو لیرا میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اسکیم کا اجرا کیا جس کے تحت لیرا کی قدر میں تقریباً 50 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس منصوبے کے ےتحت مرکزی بینک غیر ملکی کرنسی کے بدلے میں لیے گئے لیرا پر ہونے والے کسی بھی نقصان کو پورا کرے گا۔

لیرا کے مقابلے میں ڈالر اچانک کیسے گرا؟

کرنسی کی قدر میں ہونے والی کمی بیشی کے فوری اثرات قیمتوں پر پڑتے ہیں لیکن قیمتیں گھٹانے میں نسبتاً سست روی نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خزانہ و مالیات نور الدین نباتی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ راکٹ کی طرح تیزی سے اضافے کے بعد اب پیراشوٹ کی رفتار سے کمی نہیں ہونی چاہیے۔ قیمتوں میں کمی بھی اسی تیزی سے ہونی چاہیے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بھی کہا تھا کہ وہ اداروں اور فروخت کنندگان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ لیرا کی قدر میں بہتری آنے کے بعد قیمتوں میں کمی کریں گے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ حکومت نظر رکھے گی کہ کون سے ادارے ایسا نہیں کرتے۔

سپر مارکیٹ چین مثلاً کاریفور، مگروس اور شوق مارکیٹ لر سمیت متعدد اداروں نے اپنے علیحدہ بیانات میں کہا ہے کہ وہ مخصوص مصنوعات کی قیمتیں کم کریں گے، جن میں دودھ، سورج مکھی کے بیجوں کا تیل، پنیر، پھل، سبزیاں اور ٹوائلٹ پیپر شامل ہیں۔

سپر مارکیٹوں پر محض قیمتیں بڑھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ ملی بھگت سے ایسا کرنے کی وجہ سے جرمانے لگے

کاریفور نے کہا کہ وہ متعدد مصنوعات اور برانڈز کی قیمتوں میں 30 فیصد تک کمی لائے گا جن میں تیل، دودھ، پنیر، چائے، پاستا، چاول، کپڑے دھونے کا سامان، ٹوائلٹ پیپر اور چند پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ مگروس کا کہنا ہے کہ وہ تمام پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی لا رہا ہے۔ آٹے، تیل اور چینی کی قیمت بھی کم کر دی گئی ہے۔ جبکہ شوق مارکیٹ لر کہتا ہے کہ وہ ضرورت کی تمام بنیادی اشیا کی قیمتیں کم کر چکا ہے۔

ترکی میں سالانہ افراط زر دسمبر میں 30 فیصد سے تجاوز کر جانا متوقع ہے۔ یہ مئی 2003ء کے بعد افراط زر کی سب سے بلند شرح ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر اس میں 9 فیصد کا اضافہ متوقع ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: