آق پارٹی کے تاسیسی فلسفے "ترکی اتحاد” کی طرف واپسی

احسان آق تاش

0 2,006

جب سے انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) ترکی سیاست کے منظرنامے پر چھائی ہے، ہر نئی بننے والی سیاسی جماعت اس کے تاسیسی فلسفے کو نقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پھر بھی یہ ایک بے مثل داستان تھی کہ جس میں ایک مضبوط قیادت اور ایک تجربہ کار سیاسی ڈھانچہ شامل تھا جو رفاہ پارٹی، ایک بڑے سیاسی و اقتصادی بحران اور عوام میں ابھرتی ہوئی مقبولیت نے بنایا تھا۔

گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے اختتام پر صدر رجب طیب ایردوان نے یہ کہہ کر کہ "اب گرم لوہےکو ٹھنڈا کرنے کا وقت آ گیا ہے” متعدد بار "ترکی اتحاد” کے تصور پر زور دیا ۔ بین الاقوامی اکھاڑے میں ترکی کی حالیہ سیاسی و اقتصادی مشکلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسا سیاسی رویہ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اہم ترین دلائل کو صفر کر دیتا ہے کہ جو حکمران جماعت پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔

ترکی حال ہی میں ایک بہت سخت وقت سے گزرا ہے۔ غیزی مظاہروں کے اختتام کے بعد ایک عدالتی بغاوت کی کوشش کی گئی کہ جسے 17 سے 25 دسمبر 2013ء کے دوران ناکام بنایا گیا۔ اس کے بعد 15 جولائی 2016ء کی بزدلانہ اور خونی بغاوت ہوئی۔ اسی اثناء میں عوام نے ترکی میں صدارتی نظام اپنانے کے حق میں ووٹ دیا۔ ایسے نازک سیاسی مرحلے پر میں نے "سماجی اتفاق رائے” کی اہمیت پر اپنا کالم لکھا۔

آق پارٹی کے قیام سے 2011ء تک عوام کی ایک بڑی اکثریت حکمران اس سیاسی جماعت کی حمایت کرتی یا اس کے ساتھ ہمدردی رکھتی تھی۔ وہ جو آق پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے تھے، وہ بھی سیاسی طرز عمل اور پالیسیوں پر اس کو سراہتے ہوئے پائے گئے۔

آق پارٹی کا یہ جادو درحقیقت عوام کے ساتھ ان کے مکالمے اور تعلق سے براہ راست کشید ہوا تھا۔ ڈیموکریٹ پارٹی (DP) کی سیاسی طاقت کے مختصر دورانیے کے سوا کوئی دوسری سیاسی جماعت سماجی اتحاد اور تکمیل کو اس طرح حاصل نہیں کرپائی جیسے آق پارٹی نے کیا۔گولن دہشت گرد گروپ (FETO)اس پورے عمل کو اچھی طرح جانتا تھا۔

2011ء میں آق پارٹی کی کانگریس سے عین پہلے FETO سیاسی اختیارات کی براہ راست حصہ دار بننے کی خواہشمند تھی۔ اس نے اپنے داخلی حلقوں کو مرحلہ وار ایردوان کے خلاف تیار کیا۔خفیہ طور پر فوج، پولیس اور عدالتی نظام پر قبضہ جمایا، بورڈ آف ججز اینڈ پراسیکیوٹرز پر بھی، اوریوں ایک ایسا پھوڑا بن گئی کہ جو ریاستی ڈھانچے کے اہم ستونوں میں اندر تک سرایت کر گیا۔ عوام کا بے لوچ جمہوری رویہ ہی ہمارے ملک کو ایسے جامع اور پیچیدہ خطرے سے بچا سکتا تھا۔

آق پارٹی اور عوام کے درمیان تعلق کو توڑنے کے لیے FETO نے محکمہ پولیس اور انٹیلی جینس میں اپنے یونٹوں کو متحرک کیا۔ انہوں نے سماجی مظاہروں کو منظم اور مشتہر کرنا شروع کردیا اور پھر انہیں سخت طاقت کے ذریعے کچلا۔ انہیں فٹ بال کلبوں، جیسا کہ فنر باخچی اور بیشکتاش، کے کام کرنے کے خفیہ طریقوں کا بھی اندازہ ہو چکا تھا۔ غیزی مظاہرے اس کھیل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تناؤ کا نتیجہ تھے۔ گو کہ اسے بائیں بازو کی شورش سمجھا جاتا تھا لیکن غیزی مظاہروں کی حقیقی معمار FETO تھی۔

سماجی تناؤ کو پیدا کرکے آق پارٹی کے عوام سے تعلق کو منقطع کرنے کا یہ منصوبہ، جس میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے والے بھی شامل تھے، ایک لحاظ سے کامیاب بھی ہوا۔ آق پارٹی کے چند دانشور، جن کا کام محض صدر کے سائے تلے پلتے رہنا ہے، اس عمل کا جائزہ لینے کے قابل نہیں تھے۔

اس نازک مرحلے پر صدر ایردوان نے "ترکی کے اتحاد” کا خیال پیش کیا جس میں 2011ء سے پہلے کے ترکی کا واضح حوالہ موجود تھا، یعنی FETO کی بغاوت سے پہلے۔ یہ ایک بڑا سیاسی وژن تھا۔ یہ سماجی اتفاق رائے اور تکمیل کی پرخلوص فریاد ہے۔ بالخصوص قومی مسائل پر ہمیں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

تبصرے
Loading...