غیر معمولی سورج گرہن، افریقہ اور ایشیا پر سورج کے گرد حلقۂ آتش بنے گا

0 384

مغربی افریقہ سے جزیرہ نما عرب، پاکستان، بھارت اور جنوبی چین میں اتوار کو غیر معمولی سورج گرہن ہوگا جس سے وہ "حلقہ آتش” (ring of fire) بنے گا جو شاذ و نادر ہی بنتا ہے۔

حلقہ دار گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین اور سورج کے درمیان موجود چاند ہمارے سیارے کے اتنا قریب نہیں ہوتا کہ پورے سورج کو چھپا دے، جس کی وجہ سے سورج کا معمولی سا حلقہ باقی رہ جاتا ہے۔ یہ سال دو سال میں ایک مرتبہ ہوا ہے اور زمین کے بہت کم علاقے ایسے ہوتے ہیں جہاں سے نظر اتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اتوار کو یہ گرہن اس وقت لگے گا جب شمالی نصف کرہ میں سال کا طویل ترین دن ہوگا۔

یہ سورج گرہن سب سے پہلے صبح 5 بج کر 56 منٹ پر جمہوریہ کانگو میں نظر آئے گا، طلوعِ آفتاب کے محض چند منٹوں بعد۔

گرہن کا سب سے طویل وقت کہ جس میں اندھیرا چھا جائے گا، 1 منٹ 22 سیکنڈز کا ہوگا۔

مشرق کی طرف سفر کرتے ہوئے افریقہ اور ایشیا سے ہوتے ہوئے یہ چین-بھارت سرحد کے قریب اترکھنڈ، بھارت میں دوپہر 12 بجکر 10 منٹ پر "مکمل گرہن” کی حالت تک پہنچے گا – جس میں چاند کے گرد روشنی کاہالہ نظر آئے گا ۔

اس گرہن کا سفر چار گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد تائیوان میں ایک جزوی گرہن کے بعد بحر الکاہل میں مکمل ہو جائے گا۔

رواں سال میں ایک دوسرا سورج گرہن بھی ہوگا جو 14 دسمبر کو جنوبی امریکا پر دکھائی دے گا، لیکن تب چاند زمین کے زیادہ قریب ہوگا جس کی وجہ سے یہ سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک دے گا، یعنی رِنگ آف فائر نہیں بنے گا۔

اندھیرا ہونے کے باوجود سورج گرہن کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا خطرناک ہوتا ہے۔ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو نہ روک پانے والے چشمے پہننا بھی خطرے سے خالی نہیں۔

تبصرے
Loading...