بڑھتا ہوا پاپولزم، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا یورپی یونین کی اقدار تباہ کر چکا ہے، وزیر خارجہ

0 144

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ یورپ میں بڑھتا ہوا پاپولزم، زینوفوبیا، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا یورپی یونین کی نمائندہ اقدار کو تباہ کر چکا ہے۔

بحیرۂ روم کے کنارے واقع ترکی کے صوبے انطالیہ میں جنوبی ایشیائی یورپی تعاون عمل (SEECP) کے غیر رسمی اجلاس کے افتتاح سے خطاب کرتے ہوئے چاؤش اوغلو نے اپنے ہم منصبوں کو بتایا کہ یورپی یونین میں شمولیت کا عمل علاقے کے کئی ملکوں کے لیے تبدیلی اور ترقی کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتا تھا، خاص طور پر 90ء کی اور اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں۔

انہوں نے زور دیا کہ ترکی اُمید کرتا ہے کہ یورپی یونین اپنے بنیادی اصولوں کے مطابق چلے گا اور اُن کی کامیابی سے پیروی میں کرتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ یہ بھی تمنا رکھتا ہے کہ یورپی یونین "امتیاز” کے بجائے "اتحاد” کی راہ اختیار کرے گا۔

یورپی یونین کی جانب سے البانیہ اور شمالی مقدونیہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے چاؤش اوغلو نے کہا کہ انقرہ مغربی بلقان اور ترکی کو الگ رکھنے کو درست نہیں سمجھتا، کیونکہ اس سے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت نظر انداز ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی تزویراتی ترجیح یورپی یونین کی مکمل رکنیت حاصل کرنا ہے اور مطالبہ کیا کہ یورپی یونین بصیرت کا مظاہرہ کرے اور اپنے اصولوں اور وعدوں کی پاسداری کرے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی تقریباً 25 سال سے SEECP کے ذریعے علاقائی تعاون اور استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ "ہم اپنے دورِ اقتدار میں اس تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ہم نے درپیش یکساں چیلنجز کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات متعین کی ہیں جیسا کہ انسانی سرمائے کا نکل جانا، بین العلاقائی رابطہ، ہجرت اور تجارت۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یکساں مسائل ہیں کہ جنہیں یکساں حل کی ضرورت ہے۔

عالمی کروناوائرس وباء کے حوالے سے چاؤش اوغلو نے کہا کہ اس وباء نے سب کو عالمی و علاقائی تعاون کی اہمیت یاد دلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے اپنی انسان دوست خارجہ پالیسی کے مطابق 155 ممالک کے طبی مطالبات پورے کیے۔ ہم نے وباء کے بعد 91 دوسرے ملکوں کے شہریوں کو وطن واپسی میں مدد دی، وہ کرونا وائرس کے ابتدائی دنوں کی بات کر رہے تھے کہ جب وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی ممالک نے اپنی پروازیں بند کر دی تھیں۔

ترکی نے جولائی 2020ء میں ایک سال کے لیے SEECP کی قیادت سنبھالی، اس سے پہلے وہ ‏1998-99ء اور ‏2009-10ء میں قیادت کر چکا ہے۔

1996ء میں قائم ہونے والی SEECP میں جنوب مشرقی یورپ کے 13 ممالک شامل ہیں اور جو مختلف شعبوں میں علاقائی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔

تبصرے
Loading...