روہینگیا نوجوان ایوب: ماں باپ سے بے مثال محبت کا نمونہ

0 192

ظلم و جبر اور تشدد کے مارے روہینگیا جب موسم کی تلخی اور بھوک برداشت کرتے بنگلہ دیش کے ساحلوں پر پہنچے تو ان میں پچیس سالہ روہینگیا نوجوان ایوب بھی شامل تھا جسے دیکھ کر نہ صرف مقامی لوگ بلکہ میڈیا کے نمائندے بھی حیران رہ گئے۔  ایوب نے اپنے بوڑھے اور بیمار والدین کو سامان اٹھانے والے ترازو میں اٹھا رکھا تھا۔ اسے اراکان سے بنگلہ دیش کے ساحل پر پہنچنے میں پانچ دن لگے تھے۔ سفر کے دوران اس نے کئی جنگل، ندیاں، خار دار جھاڑیاں اپنے ماں باپ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر عبور کیں۔

ایوب کے 80 سالہ والد دادو میاں اور 65 سالہ ماں اچھیا خاتون بڑھاپے کی وجہ سے چل نہیں سکتے۔ جبکہ اس کی ماں کی طبعیت اکثر خراب رہتی ہے۔ سفر کی تفصیل بتاتے ہوئے ایوب نےکہا کہ ان کے گھر کو آگ لگا دی گئی تھی لیکن وہ آگ پھیلنے سے پہلے گھر سے نکل آئے تھے، ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے گھر میں پڑی خشک خوراک اٹھا لی تھی۔ وہ خشک خوراک ان کی ماں نہیں کھا سکتی تھی۔ اس لیے وہ سخت کوفت میں سفر کر رہے تھے۔ ایوب نے مزید بتایا کہ یہ خشک خوراک بھی دو دن بعد ختم ہو گئے اور وہ اگلے تین دن بھوک کے ساتھ سفر کرتے رہے۔

ایوب اپنے ماں باپ کے ساتھ الوبنایا سرحد کے ذریعے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہیں۔ میانمار سے بنگلہ دیش آنے والے روہینگیا اپنے ساتھ کی دردناک کہانیاں ساتھ لائے ہیں۔ کوئی اپنی معذور بہن کو کندھوں پر اٹھا لایا ہے تو کوئی کیمپ میں پہنچتے ہی بھوک سے چیخ پڑھتا ہے۔ مقامی لوگ انہیں اپنی طرف خوراک مہیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ناکافی ہے۔ ترکی اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر سے پہنچنے والی فلاحی تنظیموں کی آمد سے روہینگیا مسلمانوں کی تکالیف میں کمی متوقع ہے لیکن جو دکھ اور تکلیف وہ جھیل کر کاکس بازار پہنچے ہیں اس کے اثرات ان کی زندگیوں پر نقش ہو کر رہ گئے ہیں۔

تبصرے
Loading...