کیا ترک برصغیر پر حاکم رہے؟ تاریخ کے جھروکوں سے

0 4,867

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ جب ہم ترک کہتے ہیں تو اس سے مراد کیا ہوتا ہے؟ ترک وسط ایشیاء کی ایک خانہ بدوش نسل کا نام ہے جو نسلی اور ثقافتی لحاظ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے- تاریخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام ترک قبیلے مکمل طور پر مسلمان ہوئے اور انہوں نے اسلام کا سادہ ورژن اختیار کیا مگر انتہائی محبت اور پُرجوش طریقے پر اسلام کے ساتھ جڑ گئے- ایسے وہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ بنے اور مسلمان معاشروں کا حصہ کہلائے جانے لگے- اسلام کے پھیلاؤ اور اسلامی تہذیب میں ترکوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا-

جیسے جیسے ترکوں کے عباسی ریاست کے ساتھ تعلقات بڑھنے لگے یوں یوں مسلم حاکموں پر وہ اثر انداز ہونے لگے- عباسی ان پر باقی مسلمانوں سے زیادہ اعتماد کرنے لگے، حتی کہ 835 میں خلیفہ مہتشم نے ایک ایلیٹ فوج تیار کیا جو صرف اور صرف ترکوں پر مشتمل تھا-

ترکوں نے اپنے مختلف خاندان بنائے، مختلف ریاستیں تشکیل دیں جنہوں اسلام کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ اس کی سرحدوں کو بڑھایا- یہ سرحدیں مختلف اطراف کی بڑھیں، مشرق اور مغرب کی طرف پھیلیں جن میں ایک برصغیر بھی ہے-

ترکوں کا برصغیر پر پہلا حملہ سبوقتکین سے 11 صدی کے وسط میں شروع ہوا جبکہ ان کی ریاستیں شمال اور جنوب برصغیر میں 12 صدی میں قائم ہوئیں- اس سے قبل 8 ویں صدی میں عباسی خلافت نے سندھ پر حملہ کیا تھا لیکن وہ برصغیر کی تہذیب اور ثقافت پر کوئی قابل ذکر اثرات قائم نہ کر سکے-

ترکوں کی برصغیر میں آمد 11 ویں صدی کے وسط میں ہوئی اور تقریباً 500 سو سال تک حاکم رہے- غزنوی ریاست کے بعد غوری آئے- جن کے بعد ترک غلام قطب الدین ایبک حکمران ہوئے جو سلطان محمد کے انتہائی بااعتماد کمانڈر تھے- اس کے بعد ایک اور ترک ریاست، خلجی نے 1292 سے 1320 تک حکمرانی کی- جنہیں تغلقوں نے ہٹایا- تغلق ریاست 1320 سے 1414 تک قائم رہی جس کے بعد مغل ریاست قائم ہوئی جو برطانیہ استعمار کے قبضے تک جاری رہی-

مغل ریاست تاریخ کی سب سے زیادہ امیر ریاست شمار ہوتی ہے جس کے انٹرنشنل مارکیٹ میں شئیر 33 فیصد سے زائد تھے- انہوں نے اپنے دور کے امکانات اور وسائل کا بہترین استعمال کیا- اپنے جغرافیائی مقام اور زرخیز زمین کے ساتھ وہ دنیا کی معاشی قوت بن گئے- جس پر برطانوی استعمار نے للچائی ہوئی نظریں رکھی ہوئی تھیں- مغل ریاست کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے کمزور کیا گیا اور مغلوں بادشاہوں کے تشخص کو وہاں کی آبادیوں میں مسخ کر دیا گیا- اور بالاخر وہ برصغیر پر قابض ہو گئے-

برصغیر میں ترکوں کی سب سے بڑی نشانی خود اردو زبان ہے جو خود ترک لفظ لشکر پر رکھی گئی ہے کیونکہ یہ ترک لشکری زبان تھی- اس لشکر میں مختلف خطوں سے مسلمان جمع تھے اس لیے انہیں زبان میں دقت کا سامنا تھا- ترک غلبے کی وجہ سے ترک لفظ اردو سے یہ زبان اس لشکر میں رواج پانا شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر کے مسلمان معاشروں کی زبان بن گئی-

البتہ برصغیر کی یہ ترک ریاستیں باقاعدہ طور پر سلطنت عثمانیہ کے تابع نہیں رہی ہیں- البتہ مختلف برصغیر کے مختلف ترک حکمرانوں کے سلطنت عثمانیہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہمیشہ قائم رہے حتی کہ سلطان عبد الحمید خان کی بیٹی بھی برصغیر میں بیاہی گئی-

ان تاریخ حوالوں سے ترکوں کی برصغیر پر قائم کی گئی ریاستوں اور ان کی یہاں پر طویل حکمرانی کو بھلایا نہیں جا سکتا-

تبصرے
Loading...