روس جولائی 2019 سے ترکی کو S-400 دفاعی نظام کی فراہمی شروع کر دے گا

0 1,066

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی اور روس نے 400-S  دفاعی نظام کی خریداری معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ روس نے اپنا خلوص ثابت کرتے ہوئے پہلے سے طے شدہ مدت میں کمی لاتے ہوئے جلد ترسیل کی درخواست کو قبول کر لیا ہے۔

البتہ نہ ہی ایردوان اور نہ ہی پوتن نے بحال شدہ ترسیل کے لئے درست تاریخ ظاہر کی ہے۔ تاہم دفاعی صنعت کے انڈر سیکرٹری اسماعیل دیمیر  نے منگل کو ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا   کہ  روسی ساختہ نظام کی ترسیل 2020ء کی پہلی سہ ماہی سے کم ہو کر جولائی 2019ء تک کر دی گئی ہے۔

انقرہ کے صدارتی کمپلیکس میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی کے ماسکو کے ساتھ دوسرے معاہدوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ ترکی کی پہلی ایٹمی توانائی پلانٹ میں سرمایہ کاری کی گئی ہے جو بحیرہ روم کے ساحل پر Akkuyu میں روسی کمپنی روساٹم کی طرف سے تعمیر کیا جا رہا ہے، اس منصوبے پر 20 بلین ڈالر سے زائد کی لاگت آئے گی۔

ایردوان  نے مزید بتایا کہ قدرتی گیس پائپ لائن ترک اسٹریم کی دوسری لائن پر کام تیزی سے جاری ہے۔

سیاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ روس ترکی کی سیاحت کا ایک بڑا حصہ ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترک شہریوں کے لیے ویزا کی آسانیاں پیدا ہونے سے باہمی سیاحت میں اضافہ ہو گا۔

ترکی کے صدر نے کہا کہ ترکی اور روس نے شام کے بحران بارے مشترکہ خدشات رکھتے ہیں اور ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں جیسے وائے پی جی اور داعش کا خطے میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔

تبصرے
Loading...