شام میں ترک آپریشن روکنے کے لیے اقوام متحدہ میں پیش کرنے کے لیے تیار کردہ مسوّدہ روس نے روک دیا

0 672

روس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس مسودے کو روک دیا ہے جس میں ترکی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ شمالی شام میں شروع کیا گیا آپریشن روک دے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکا کا یہ مسودہ جمعے کی شام ساڑھے 7 بجے پیش کیا جانا تھا، لیکن ماسکو نے مداخلت کرکے اسے روک دیا۔ چین نے بھی روس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ یہ بات ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔

جمعرات کو سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے بعد امریکا کی جانب سے تجویز کردہ اس مسودے کے متن میں انقرہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر سفارت کاری کا رُخ کرے۔ لیکن بعد ازاں حتمی مسودے میں زبان کو مزید سخت کیا گیا۔

سلامتی کونسل کے اراکین نے ترک فوجی آپریشن اور اس کے مضمرات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جن میں انسانی و سکیورٹی پہلو شامل تھے۔ انہوں نے ترکی سے فوجی آپریشن روکنے اور اپنے سکیورٹی خدشات کے خاتمے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترکی نے آپریشن چشمہ امن کا اعلان کیا تھا جو شمالی شام میں داعش اور PKK کی شامی شاخ YPG کے دہشت گردوں کو ہدف بنانے کے لیے 9 اکتوبر کی شام شروع کیا گیا تھا۔

یہ آپریشن بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اُن قراردادوں کے عین مطابق ہے جو کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتی ہیں۔ اس آپریشن کا ہدف دریائے فرات کے مشرق میں واقع اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرکے وہاں شامی مہاجرین کی آباد کاری کرنا ہے کہ جو امریکا کے حمایت یافتہ شامی جمہوری دستوں (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جن کی اکثریت YPG کے دہشت گردوں پر مشتمل ہے۔

PKK کو ترکی، امریکا اور یورپی یونین ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں کہ جس نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف دہشت گردی کی مہم چلا رکھی ہے، جس کا نتیجہ تقریباً 40 ہزار اموات کی صورت میں نکلا ہے کہ جن میں عورتیں، بچے یہاں تک کہ شیر خوار بھی شامل ہیں۔

ترکی عرصے سے شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مذمت کرتا آ رہا ہے اور ان کے ٹھکانے بننے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے۔

2016ء سے اب تک شمالی مشرقی شام میں ترکی کے آپریشن فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون ہو چکے ہیں کہ جنہوں نے علاقے کو YPG/PKK اور داعش کے دہشت گردوں سے خالی کیا اور تقریباً 4,00,000 شامی باشندوں کی واپسی کو ممکن بنایا کہ جو پرتشدد کارروائیوں کے خوف سے اپنے گھر چھوڑ گئے تھے۔

تبصرے
Loading...