روس اور چین نے شام میں سرحد پار امداد بڑھانے کی قرارداد ویٹو کر دی

0 1,217

خدشات کے عین مطابق روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے کہ جو شام میں سال بھر کے لیے سرحد پار انسانی امداد کی منظوری کو توسیع دیتی۔

روس اور چین کے علاوہ کونسل کے دیگر 13 اراکین نے اس مسودے کی منظوری دی۔

یہ قرارداد سلامتی کونسل کے دو غیر مستقل اراکین جرمنی اور بیلجیئم کی جانب سے پیش کی گئی۔ جس کے تحت ترک سرحد پر دو مقامات سے شام میں امدادی سرگرمیاں کرنے کی اجازت مل جاتی، وہ بھی دمشق کی اجازت کے بغیر۔ گوکہ روس نےقرارداد کا مسودہ مسترد کیالیکن اس نے فوراً ایک محدود توسیع کی تجویز ضرور پیش کی۔

مذاکرات کے دوران ماسکو کا کہنا تھا کہ یہ توسیع سال کے بجائے چھ مہینے کے لیے ہونی چاہیے اور صرف ایک بارڈر کراسنگ کو اجازت ملنی چاہیے، دو کو نہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر کیلی کرافٹ نے کہا کہ ہمیں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ چین اور روس بشار اسد کی ظالم حکومت کی مدد کا کوئی موقع نہیں گنواتے۔ ایک مرتبہ پھر شام کے عوام، انسانی دوست ماہرین اور سیکریٹری جنرل کے مطالبات پر روس اور چین نے اپنے کان بند رکھے۔ اب جو مسائل اور اموات سامنے آئیں گی اس کی پوری ذمہ داری روس اور چین پر عائد ہوگی۔ دونوں ملک سلامتی کونسل کو اپنے محدود قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ معصوم شامی خواتین، بچوں اور مردوں کی آواز اور ان کی خوراک، سر پر چھت یا ان کے اہل خانہ کے لیے ضروری طبی امداد کا سبب بنتے۔

ووٹ کے فوراً بعد روس نے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا جس میں چھ ماہ کی توسیع، شامی حکومت کے ماتحت علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو بہتر بنانے اور شام میں داخل ہونے کے دو راستوں میں سے ایک کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس قرارداد کا نتیجہ بعد میں آئے گا۔

تبصرے
Loading...