ترکی کے ساتھ بڑھتے دفاعی تعاون پر روس کا اظہارِ مسرت

0 893

روس کی وزارتِ خارجہ کے چوتھے یورپی ڈائریکٹر یوری فلپ سن نے کہا ہے کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ترکی کی جانب سے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے فیصلے کو روس میں سراہا جاتا ہے اور روس دونوں ملکوں کے مابین تعاون میں زبردست صلاحیت دیکھتا ہے۔

فلپ سن نے کہا کہ "ہم ترک-روس تعاون کو بہتر بنانے کے عمل کی بھرپور نگرانی کر رہے ہیں، جس میں عسکری و تکنیکی تعاون بھی شامل ہے۔ باہمی منصوبوں پر عملدرآمد، خاص طور پر 2019ء میں ایس-400 ٹرائمف سسٹمز کی فراہمی دونوں ممالک کے مابین اس شعبے میں باہمی تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم اس شعبے میں کافی صلاحیت دیکھتے ہیں۔”

روس کی اسپتنک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے فلپ سن نے کہا کہ ہم بیرونی دباؤ کے باوجود ترکی کے رویّے کو سراہتے ہیں اور دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ترکی نے S-400 استعمال کے لیے خریدے ہیں، ایک طرف رکھنے کے لیے نہیں

انقرہ کی جانب سے مزید ایس-400 سسٹمز خریدنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے متعلقہ محکمے عسکری و تکنیکی تعاون پر کام کر رہے ہیں۔

روس سے یہ ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے پر ترکی اور امریکا کے تعلقات سخت کشیدہ ہو گئے تھے، یہاں تک کہ امریکا نے ترکی کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے بھی نکال دیا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم ایف-35 طیارے کی خفیہ تفصیلات جمع کر کے روس کو پہنچائے گا لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ ایس-400 کو نیٹو کے سسٹمز کے ساتھ منسلک نہیں کیا جائے گا اور اس سے نیٹو کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔

ترکی نے امریکا سے پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کی کوشش کی تھی لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے اور امریکی شرائط پر مطمئن نہ ہونے کے بعد ہی انقرہ نے ایس-400 کا رخ کیا تھا۔ ترکی کا کہنا تھا کہ وہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کی شرائط پوری ہونے پر ہی کوئی پیشکش قبول کرے گا۔

تبصرے
Loading...