امریکہ اور ناٹو کے ترکی کی پشت پر کھڑا ہونے پر روس مکر گیا، ہمارا ترک فوج پر فضائی حملوں میں کوئی لینا دینا نہیں

0 5,908

رات میں ہونے والی پیش رفت اور امریکہ کی طرف سے پُرزور حمایت کے بعد روس کی کی وزارت دفاع طرف سے بیان آیا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے ادلب کے اس علاقے پر حملے نہیں کیے جہاں ترک یونٹوں کو فضائی بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔ جمعرات کی شب ماسکو کی حمایت یافتہ اسد حکومت کے وحشیانہ حملے میں 33 ترک فوجی ہو گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو نے جب سے اسے ترک شہادتوں کا علم ہوا ہے، شامی حکومت پر مکمل فائر بندی نافذ کرنے کے لئے سب کچھ کیا گیا ہے۔

روسی وزارت نے یہ بھی کہا کہ ترکی نے روسی فوج کو شام کے ادلب کے علاقے میں ترک فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا۔

دن کے آخر میں ، کریملن نے کہا کہ ترک فوجیوں کو ان کی نگران چوکیوں سے باہر نہیں ہونا چاہئے اور روس نے نگران چوکیوں پر ترک فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔

رواں ماہ کے شروع میں ، ترکی نے روس کی اس پالیسی کی مذمت کی تھی جس کا مقصد عام انسانی جانوں کی قیمت پر ادلب کے آس پاس کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ انقرہ نے کہا کہ وہ سوچی معاہدے پر پیچھے نہ ہٹنے کے لئے پرعزم ہے جبکہ بشار الاسد حکومت کی جارحیت اور ظلم کے خاتمے کے لئے ضروری اقدامات کرے گا۔

ترکی نے ادلب پر ہونے والے حملوں کو فوری طور پر روکنے اور جنگ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کر چکا ہے کہ اگر یہ حملے بند نہ ہوئے تو ترکی مداخلت کرے گا۔ تاہم، حالیہ ہونے والے تازہ ترین حملے کے ساتھ ہی، انقرہ میں بڑھتے ہوئے خطرے کو محسوس کیا ہے جو تناؤ کو انتہائی سطح پر پہنچا رہا ہے۔

جمعرات کی شام ، صدر رجب طیب ایردوان نے ادلب میں تناؤ پر قومی سلامتی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی انٹلیجنس آرگنائزیشن (MİT) کے سربراہ حقان فیدان سمیت تمام وزراء اور سینئر عہدیدار موجود تھے، جو شام ساڑھے نو بجے طلب کیا گیا تھا اور تقریباً 6 گھنٹے جاری رہا۔

روس کی طرف سے بھاری فضائی مدد کے ساتھ، شامی حکومت کی افواج سال کے آغاز سے ہی حلب کے دیہی علاقوں اور ملک میں حزب اختلاف کے آخری گڑھ ادلب کے کچھ حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے لڑ رہی ہیں۔ یہ پیشرفت نو سالہ خانہ جنگی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی کی وجہ بن ہے جس میں لاکھوں شامی شہری ترکی کی سرحد کی طرف بھاگ کر پہنچے ہیں۔

اس صورت حال نے اس نے انقرہ اور ماسکو کے مابین نازک تعاون کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، جو شامی خانہ جنگی کے تنازعہ میں دو مخالف فریقوں کی حمایت کرتے ہیں۔

دریں اثناء، وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے اس حملے کے بعد نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ کے ساتھ فون پر بات کی۔ جمعہ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹولٹن برگ نے شام کی اسدی حکومت اور اس کے حمایتی روس کی طرف سے ادلب میں کئے گئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تبصرے
Loading...