جاسوسی کے الزام پر روس نے 2 ترک صحافیوں حراست میں لے لیا

0 398

روس میں 2 ترک صحافی زیرِ حراست ہیں، جن کا تعلق ترک خبری ویب سائٹ GZT سے ہے۔ ناز گل کنزیتے اور امین قراچاق 16 دسمبر سے حراست میں ہیں جس کا انکشاف اب ہوا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق دونوں صحافیوں کا تمام سامان بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کا سارا ڈیجیٹل ڈیٹا بھی زبردستی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ صحافی روس میں رہنے والے ترکوں کے طرز زندگی اور ثقافتوں پر ایک دستاویزی فلم بنا رہے تھے۔

ان صحافیوں کی رہائی کے لیے سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی شروع ہوئی ہے جس میں ترک شہری ‎ #FreeNazgulEmin کے ہیش ٹیگ کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔

ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ ان صحافیوں کو جس مرکز میں زیر حراست رکھا گیا ہے، وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ وہاں گرمی سے بچنے کے لیے کوئی نظام موجود نہیں، ایئر کنڈیشنرز کھول دیے گئے ہیں تاکہ وہ بیمار پڑ جائیں اور انہیں گرم پانی بھی مہیا نہیں کیا جا رہا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو جن کوٹھڑیوں میں رکھا گیا ہے، ان کی ہر وقت نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے فون بھی مستقل چیک کیے جا رہے ہیں، جو ان کی پرائیویسی کی واضح خلاف ورزی ہے۔

دریں اثنا روسی میڈیا دونوں صحافیوں پر "روس مخالف پروپیگنڈا، جاسوسی، روس میں ترک لوگوں کو بُرے حال میں دکھانے اور اسلام پھیلانے” کے الزامات لگا رہا ہے۔

دونوں صحافیوں کو پہلے روس کے دو ترک علاقوں ساخا (یاقوتیا) اور التائی میں حراست میں لیا گیا تھا۔ صحافی قراچاق کا کہنا ہے کہ انہیں روس کے مرکزی علاقوں میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن ترک علاقوں میں داخل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان پر دباؤ بڑھ گیا۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: