آرمینیا کی امیدوں کے برعکس روس قاراباخ کے معاملے پر غیر جانبدار ہے، آذربائیجان

0 148

آذربائیجان کے صدر الہام علیف نے کہا ہے کہ آرمینیا توقع کر رہا تھا کہ اسے روس کی پشت پناہی حاصل ہوگی لیکن روس اب تک اس معاملے پر غیر جانبدار ہے۔

ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘ٹی آر ٹی’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آذربائیجانی صدر نے کہا کہ آرمینیا اب بھی روس کو اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگا۔ یہ خطہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجانی علاقے کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے اور آرمینیا ایک قابض طاقت ہے۔

علیف کے مطابق اپنی نامقبول پوزیشن اور اس حقیقت کے باوجود کہ تقریباً ہر ملک آرمینیا کو ایک قابض طاقت سمجھتا ہے، آرمینیا کے لابی گروپس بدستور ایک گھٹیا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت آذربائیجان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ آرمینیا کی لابیز پوری دنیا میں ہمیں بدنام کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون نے ایک فون کال میں ہم پر کچھ الزامات لگائے ہیں، میں نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں ثابت کر کے دکھائیں۔ وہ کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔”

صدر نے یہ بھی کہا کہ آذربائیجانیوں کو آرمینیائی باشندوں سے کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ اصل میں آرمینیا کی حکومت ہے۔ "ہمارے ملک میں بھی آرمینیائی شہری موجود ہیں، ہمیں اُن سے کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل میں آرمینیائی اپنی حکومت کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ مقبوضہ نگورنو-قاراباخ کے آرمینیائی ہمارے شہری ہیں۔ ہم انہیں باضابطہ طور پر آذربائیجان کا شہری سمجھتے ہیں۔ آذربائیجان اُن کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کرے گا اور ہم اس ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں۔”

علیف نے آذربائیجان کی حمایت میں ترکی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ "ترکی کے اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ڈرونز نے جانی نقصان گھٹانے میں ہماری بہت مدد کی ہے۔ یہ مسلح ڈرون ترکی کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتے ہیں اور ہمیں طاقت بخشتے ہیں۔”

صدر علیف نے یہ بھی کہا کہ "ہمیں آرمینیا کے مقبوضہ علاقوں میں PKK دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں پتہ چلا ہے۔”

آرمینیا نے مقبوضہ نگورنو-قاراباخ کے علاقوں میں حملے دوبارہ شروع کرنے کے کچھ دیر بعد ہی آذربائیجان میں شہری آبادیوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔

دونوں ملکوں کی سرحدوں پر جھڑپوں کا آغاز پچھلے ہفتے ہوا تھا، جب آرمینیا کی افواج نے آذربائیجان کی شہری آبادی اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کی نتیجے میں کئی اموات بھی ہوئیں۔ آذربائیجان کی پارلیمان نے آرمینیا کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی اور نگورنو-قاراباخ پر حملوں کے بعد مختلف شہروں اور علاقوں میں مارشل لاء کا اعلان کیا تھا۔

دونوں سابق سوویت ریاستوں کے مابین تعلقات 1991ء سے کشیدہ ہیں، جب آرمینیا کی فوج نے نگورنو-قاراباخ پر قبضہ کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی چار اور جنرل اسمبلی کی دو قراردادیں علاقے سے قابض فوجوں کے انخلاء کا مطالبہ کرتی ہیں۔

تبصرے
Loading...