روس 2020ء میں ترکی کے ساتھ نئے ایس-400 معاہدے پر دستخط کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے

0 112

روس اپنا ایس-400 زمین سے فضاء میں مار کرنے والا میزائل نظام فراہم کرنے کے لیے 2020ء کی پہلی شش ماہی میں ترکی کے ساتھ نئے معاہدے پر دستخط کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ بات اسلحہ برآمد کرنے والے روس کے سرکاری ادارے روسوبورون ایکسپورٹ کے سربراہ الیگزینڈر مخیِو نے کہا۔

"ہمیں امید ہے کہ ہم 2020ء کی پہلی شش ماہی میں معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کر دیں گے۔ البتہ میں زور دینا چاہوں گا کہ ترکی کے ساتھ عسکری-تکنیکی تعاون محض ایس-400 تک محدود نہیں ہے۔ ہمارے مستقبل کے لیے بڑے منصوبے ہیں۔” انہوں نے کہا۔

مخیو کے مطابق ترکی کے پاس ایک اور ایس-400 رجمنٹ کا آپشن موجود ہے اور اس حوالے سے ترکی کو پہلے ہی ماسکو سے شرائط مل چکی ہیں۔

یہ شرائط ترکی کو منصوبے کی تکنیکی سپورٹ فراہم کرنے کا احاطہ کرتی ہیں کہ جن میں اس سسٹم کے چند عناصر کی جزوی طور پر مقامی پیداوار شامل ہے، لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کون سے عناصر اور کس حجم میں ترکی میں بنیں گے۔

مخیو نے یہ بھی کہا کہ فریقین نئے معاہدے کے مالی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے تھے۔

روس نے جولائی اور ستمبر کے درمیان ترکی کو ایس-400 کی دو بیٹریز فراہم کیں۔ سوموار کو ترک فوج نے انقرہ کے قریب روسی سسٹم کے ریڈارز کی آزمائش بھی شروع کر دی۔

عرصہ دراز تک امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد انقرہ نے 2017ء میں روس سے ایس-400 خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔

اسی روسی میزائل سسٹم کی خریداری کچھ عرصے سے امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات میں تناؤ کا سبب ہے کیونکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایس-400 نیٹو سسٹمز سے مطابقت نہیں رکھتا۔ البتہ ترکی کا کہنا ہے کہ ایس-400 کو نیٹو سسٹمزمیں شامل نہیں کیا جائے گا اور یہ نیٹو اتحاد کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس نے روس کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے سے انکار کردیا۔

تبصرے
Loading...