روس نے باغیوں کی مدد کے لیے لیبیا میں مزید دستے بھیج دیے

0 447

روس لیبیا میں باغی جنگجو خلیفہ حفتر کی مدد کے لیے مزید کمک بھیج رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ یورپی اور لیبیائی حکام کے مطابق روس کے پرائیوٹ ملٹری کانٹریکٹرز نے پچھلے ہفتے لیبیا کی سب سے بڑی آئل فیلڈ پر قبضہ کرنے میں حفتر کو مدد فراہم کی ہے۔

پچھلے کچھ ہفتوں سے روس کے کارگو جہازوں کی شام میں واقع روسی ایئربیس سے لیبیا آمد جاری ہے، جس پر امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو ہتھیار اور دستے بھیج کر جنگجو باغیوں کو تقویت دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس نے مگ-29 لڑاکا طیارے اور ایک جدید ریڈار سسٹم بھی میدان میں اتار رکھا ہے۔ امریکا کی افریقہ کمانڈ کے ڈائریکٹر آپریشنز مرین کور کے بریگیڈیٹر بریڈفورڈ گیرنگ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ہوائی جہاز کم تجربہ رکھنے والے کانٹریکٹرز اڑائیں، جو بین الاقوامی قوانین کے سرے سے پابند نہیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ روس کی وزارت خارجہ اس فوجی مدد پر تبصرہ بھی نہیں کر رہی، وہ ماضی میں کہتے رہے ہیں کہ ملٹری کانٹریکٹرز روسی حکومت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

لیبیا کی حکومت نے کچھ دن پہلے اپنے ملک میں روس کے ان کرائے کے سپاہیوں کی موجودگی کی شکایت کی اور کہا کہ وہ اہم آئل فیلڈز پر قبضے کر رہے ہیں اور ہمارا ہدف ہے کہ اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کا خاتمہ کر دیں گے۔

لیبیا کی برّی افواج کے ترجمان محمد قانونو نے کہا کہ مجرمانہ کارروائیوں اور روسی کے ان کرائے کے سپاہیوں کا مرکز سرت ہے جو لیبیا کے امن و سالمیت کے لیے خطرناک ترین علاقہ بن چکا ہے۔ ویگنر کے ان کرائے کے سپاہیوں نے جنوبی آئل فیلڈز پر قبضے کے لیے جفرہ ایئربیس کو کمانڈ سینٹر بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن یا فوجی طریقے سے ان شہروں کو بچانے کا عزم رکھتے ہیں۔

روس کا ویگنر گروپ بھاڑے کے ٹٹو بھرتی کرنے میں دنیا کے متنازع ترین گروپوں میں سے ایک ہے۔ یہ یوگنی پریگوژن کی ملکیت ہے جو ایک کاروباری شخصیت ہیں اور روس کے صدر ولادیمر پوتن سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔

گزشتہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ویگنر گروپ لیبیا میں ایک ہزار ملیشیا کے اراکین کو لایا ہے، جن میں روسی پائلٹس بھی شامل ہیں جو باغی جرنیل خلیفہ حفتر کے حامی فوجیوں کی تربیت کر رہے ہیں۔ روس کے سخوئی-22 طیاروں کی لیبیا میں پروازوں کی خبریں بھی تھیں۔ یہ کرائے کے سپاہی اس سے پہلے یوکرین میں لڑنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں اور اب لیبیا میں لڑ رہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے 11 جنوری کو کہا تھا کہ لیبیا میں دو ہزار سے زیادہ کرائے کے سپاہی ہیں جن کا تعلق ویگنر گروپ سے ہے۔

امریکا نے روس کے کرائے کے فوجیوں کی لیبیا کی توانائی کی تنصیبات اور آئل فیلڈز میں مداخلت کو "لیبیا کی سالمیت اور ترقی پر براہ راست حملہ” قرار دیا۔

لیبیا 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹے جانےکے بعد سے خانہ جنگی کی زد میں ہے۔ 2015ء میں اقوام متحدہ کی مدد سے ایک معاہدے کے تحت نئی حکومت کا قیام عمل میں آیا، لیکن حفتر کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے ایک طویل میعاد سیاسی تصفیے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔

اقوام متحدہ فیض سراج کی زیر قیادت لیبیائی حکومت کو قانونی حکمران تسلیم کرتا ہے۔

حکومت نے مارچ میں دارالحکومت طرابلس پر حفتر کے حملوں کے خلاف آپریشن پیس اسٹورم کا آغاز کیا اور حال ہی میں ترہونہ سمیت کئی اہم مقامات کو آزاد کروایا، جو مغربی لیبیا میں باغیوں کا آخری گڑھ تھا۔

تبصرے
Loading...