شامی حکومت کے خلاف ہماری لڑائی میں روس درمیان میں نہ آئے، صدر ایردوان نے پوتن کو کہہ دیا

0 2,376

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ انقرہ ماسکو سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں بشار حکومت کے خلاف لڑائی سے دُور رہے۔

استانبول میں حکمران انصاف و ترقی پارٹی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "میں نے پوتن سے کہا ہے کہ شامی حکومت کے خلاف لڑائی کے لیے ترکی کو تنہا چھوڑ دے۔” انہوں نے یہ مطالبہ روسی ہم منصب ولادیمر پوتن کو کی گئی ایک حالیہ فون کال میں کیا جو شامی حکومت کے فضائی حملوں میں 36 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد کی گئی۔

– وہ ترکی کو ادلب میں پھنسانا چاہتے ہیں، ہمیں ادلب کے جنوب میں محاصرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔

– شامی بحران ‘ایڈونچر’ نہیں اور نہ ہی ترکی کی ‘اپنی سرحدوں کو وسعت دینے’ کی کوشش ہے؛ دراصل شامی حکومت ہماری علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

– ترکی کو شامی حکومت کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا گیا ہے اور ہم اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

– ترک فوج نے گزشتہ روز 7 کیمیائی ہتھیاروں کے ڈپو، 94 ٹینک، 37 توپیں، 27 فوجی گاڑیاں تباہ کیے۔

– ترکی یورپ جانے والے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرے گا۔ 18 ہزار مہاجرین یورپ جا چکے ہیں اور یہ تعداد آج 30 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

– تقریباً 40 لاکھ افراد شامی حکومت کے حملوں سے بچنے کے لیے ترک سرحد کی جانب آ رہے ہیں جبکہ 15 لاکھ اس وقت سرحدوں پر موجود ہیں۔

تبصرے
Loading...