روس شام میں لڑنے والے کرائے کے سپاہی لیبیا منتقل کرے گا

0 350

روس شام کے جنوب مغربی صوبے درعا میں بشار اسد کی طرف سے لڑنے والے کرائے کے سپاہی باغی جرنیل خلیفہ حفتر کی مدد کے لیے لیبیا منتقل کرے گا۔

مقامی ذرائع کے مطابق کرائے کے یہ سپاہی ایک ہزار ڈالرز ماہانہ پر لڑیں گے اور باغی جرنیل کی طاقت میں اضافے کا سبب بنیں گے۔

روس کے ایک اہم فوجی عہدیدار نے 24 اپریل کو ایک وفد کے ہمراہ درعا میں کرائے کے سپاہیوں نے کچھ ملاقاتیں کیں۔ ان میں سپاہیوں کے ساتھ ہزار ڈالرز ماہانہ پر تین مہینے کا معاہدہ کیا گیا۔ گو کہ چند سپاہیوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی، لیکن دیگر نے قبول بھی کی اور اب درعا میں ان کی بھرتی کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ کرائے یہ یہ سپاہی، جن کو روس ادائیگی کرتا ہے، شام میں موجود روسی کیمپوں میں فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد لیبیا بھیجے جائیں گے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ روس نے کرائے کے سپاہی شام سے لبییا منتقل کیے ہوں۔ پچھلے مہینے جنوب مغربی شامی صوبے القنیطرہ میں روس سے 300 سے 400 ایسے کرائے کے سپاہیوں کے ساتھ معاہدہ کیا جو اب ایک ہزار ڈالرز ماہانہ پر لیبیا میں لڑیں گے۔ اس وقت ان سپاہیوں کی تربیت جاری ہے۔

2011ء میں معمر قذافی کا تختہ الٹ جانے کے بعد لیبیا میں 2015ء میں اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی ایک حکومت (GNA) کا قیام عمل میں آیا۔ اپریل 2019ء سے اب تک اس حکومت کو مشرقی لیبیامیں موجود خلیفہ حفتر کے حملوں کا سامنا ہے۔ پرتشدد کارروائیوں میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں GNA نے جنگجو افواج کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، حالانکہ ان کو روس کے علاوہ، فرانس، متحدہ عرب امارات اور مصر کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ حفتر کی جانب سے شہریوں، ہسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کے بعد چند صوبوں نے مرکزی حکومت کی تائید کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

اس وقت کرائے کے کئی سپاہی لیبیا میں لڑ رہے ہیں کہ جن میں چاڈ، سوڈان اور روس سے لائے گئے جنگجو بھی شامل ہیں۔ 2000ء کی دہائی میں سوڈان کے علاقے دارفر میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کرنے والی جنجاوید ملیشیا کے اراکین اور چاڈ سے آنے والے کرائے کے سپاہی اس جنگ میں حفتر کی جانب سے لڑ چکے ہیں۔ اس سے پہلے روسی صدر ولادیمر پوتن کے قریبی دوست یوگنی پروگوژن کی ملکیت ویگنر گروپ نے بھی کرائے کے سپاہی لیبیا بھیجے ہیں۔

بلوم برگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ویگنر لیبیا میں حفتر کی فوجیوں کی تربیت کے لیے 1400 کرائے کے سپاہی اور 25 روسی پائلٹ لایا۔ اکتوبر 2019ء میں GNA نے اعلان کیا کہ جنوبی طرابلس میں ایک فضائی حملے میں ویگنر کے 35 جنگجو مارے گئے۔ ایک روسی ویب سائٹ نے تصدیق کی کہ مارے گئے افراد میں سے بیشتر کا تعلق روس کے علاقوں کراسنودر، سویردلوسک اور مورمانسک سے تھا۔

تبصرے
Loading...