روس اور ترکی ‏Su-35‎ لڑاکا طیارے کے لیے مذاکرات کے اگلے مراحل میں ہیں، روسی عہدیدار

0 432

روس کی فیڈرل سروس آف ملٹری-ٹیکنیکل کوآپریشن کے سربراہ دمتری شوگایف نے کہا ہے کہ ماسکو اور انقرہ لڑاکا طیاروں کی فراہمی کے لیے مذاکرات کے "اگلے مراحل” میں ہیں۔

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شوگایف نے کہا کہ سروس نے استنبول میں ترک فضائیہ کے لیے ایک خصوصی پریزنٹیشن کا اہتمام کیا۔

روسی طیاروں کی ترکی کو فراہمی کے بارے میں ایک سوال پر شوگایف نے کہا کہ Su-35 ماڈل کی فراہمی ترجیح ہے جبکہ Su-57 اگلے مرحلے میں دیا جا سکتا ہے۔ "ابھی ہم ایسے مرحلے میں ہیں کہ جہاں پر کسی بھی معاہدے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ابھی مختلف سطح کے ماہرین کے درمیان سوچ بچار اور مشاورت کی جا رہی ہے۔”

دونوں ممالک نے حال ہی میں بین الاقوامی ہوا بازی اور خلائی نمائش MAKS-2019ء کے دوران Su-35 اور Su-57 طیاروں، ہوائی جہازوں کے انجن اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کے بارے میں بات کی جب صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے ہم منصب ولادیمر پوتن سے ملاقات کے لیے ماسکو کا سفر کیا۔

اس بین الاقوامی نمائش میں شرکت کے دوران 27 اگست کو صدر ایردوان کو جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ Su-57 دکھایا گیا۔ انہوں نے Su-35 طیاروں، Ka-52 فوجی ہیلی کاٹر اور Mi-38 ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر کا بھی معاہدہ کیا۔

ترکی روس سے S-400 میزائل سسٹم خریدنے کے معاہدے کے بعد امریکا کے سخت رویّے کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکا نے نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود ترکی کو اپنےF-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام سے نکال دیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ S-400 نیٹو کے سسٹمز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا اور روس کو F-35 کی کمزوریوں سے آگاہ کر سکتا ہے۔ البتہ ترکی کا کہنا ہے کہ S-400 کو نیٹو کے سسٹمز میں شامل نہیں کیا جائے گا اور یہ نیٹو کے لیے خطرہ نہیں بنے گا، یوں روس کے ساتھ معاہدہ واپس لینے سے انکار کردیا۔

تبصرے
Loading...