ماسکو: ترک صدر ایردوان اور روسی ہم منصب کی ون آن ون میٹنگ جاری

0 730

روس اور ترکی کے رہنماؤں نے جمعرات کو ماسکو میں ملاقات کی جس میں ادلب میں کم از کم 34 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد شام میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔

کریملن میں ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے صدر ولادیمر پوتن نے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوان کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے حالیہ کشیدگی کے بعد اُن کی ملاقات کی دعوت قبول کی۔ انہوں نے فوجیوں کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کا آنے کا شکریہ۔ ویسے تو بات چیت کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی موضوع رہتا ہی ہے لیکن ادلب میں پیدا ہونے والی صورت حال اس نہج تک پہنچ گئی ہے کہ اس کے لیے براہِ راست اور آمنے سامنے گفتگو ضروری ہے۔ جانی نقصان ہمیشہ بڑا سانحہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے شامی فوج سمیت کسی کو بھی ترک فوجیوں کی جائے وقوع کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔”

پوتن نے مزید کہا کہ ادلب میں شامی حکومت کی افواج نے زبردست نقصان اٹھایا ہے، جو ملک میں حزبِ اختلاف کا آخری گڑھ ہے۔ "ہمیں اب تک پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بات کرنا ہوگی تاکہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو اور ترکی و روس کے تعلقات کو متاثر نہ کرے۔”

روسی رہنما نے کہا کہ آغاز دوبدو ملاقات سے ہوگا اور پھر یہ مکمل وفود کی صورت میں ہوگی۔

صدر ایردوان نے کہا کہ یہ ملاقات خطے اور ترکی میں موجود تناؤ کو کم کرے گی۔

دونوں رہنما شام میں حالیہ پیش رفت پر بات کریں گے کہ جس میں ادلب کے de-escalation زون میں ہونے والی سیز فائر کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔

شامی حکومت اور اس کے اتحادی 2018ء میں اور 12 جنوری کو شروع ہونے والے ایک اور سیزفائر کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں، اور اس علاقے میں مسلسل حملے کر رہے ہیں۔

شہری آبادی کی ہلاکتوں کے علاوہ ترکی کی سرحدوں کے ساتھ پناہ کے خواہاں افراد کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انقرہ نے شامی حکومت کے اہداف پر آپریشن اسپرنگ شیلڈ کا آغاز کیا۔

شمال مغربی شام میں تعینات ترک فوجی مقامی آبادیوں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ انقرہ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امن معاہدوں کی پاسداری کرے اور علاقے میں فوری سیز فائر کو یقینی بنائے۔

تبصرے
Loading...