روسی اور یوکرائنی وزرائے خارجہ نے ترکی آنے کے حامی بھر لی

0 1,149

ترک وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ یوکرائن اور روس کے وزرائے خارجہ کو اگلے ہفتے جنوبی ترکی کے شہر انطالیہ میں ہونے والے ڈپلومیسی فورم میں بات چیت کے لیے اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔ یوکرائن اور روس دونوں نے اس طرح کے مذاکرات کے لیے کھلے دل کا اظہار کیا ہے۔

ترکی ایک طرف نیٹو کا رکن ملک ہے تو دوسری طرف بحیرہ اسود میں یوکرائن اور روس کے ساتھ سمندری سرحدیں رکھتا ہے اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ  اچھے تعلقات موجود ہیں۔ ترکی نے ماسکو پر پابندیوں کی مخالفت کی ہے، تاہم اس نے یوکرائن پر اس کے حملے کو ناقابل قبول قرار دیا تھا، اس نے روس سے جلد از جلد جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

دوسری طرف ترک صدارتی ترجمان نے نے بھی کہا ہے کہ، "مذاکرات کے لیے (روس کے ساتھ) اعتماد کے اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر کھلا رکھنا چاہیے، تاکہ سفارت کاری کی کامیابی ممکن رہے”۔ بصورت دیگر روس اور یوکرائن سمیت پورے خطے کو تباہی سے بچانا ناممکن ہو جائے گا۔
ابراہیم قالن نے ترکی اس پالیسی کا اعادہ کیا جو وہ مغرب اور امریکہ کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں پر تنقید کر رہا ہے اور انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی قدم کا اصل مقصد جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے نا کہ تناؤ میں اضافے مقصد  ہو۔

انہوں نے ترکی کی پالیسی مزید واضع کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا ابھی کسی پر بھی پابندیاں لگائے یا اپنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے… ہم خود کو کسی ایسی پوزیشن میں نہیں دھکیلنا چاہتے جہاں ہم جنگ میں ایک فریق بن کر رہ جائیں۔ ہمیں دونوں فریقوں سے بات کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔”

 

ترکی نے دفاع، توانائی اور تجارت میں روس کے ساتھ قریبی تعاون رکھا ہوا ہے اور روسی سیاحوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ لیکن، اس نے یوکرائن کو ڈرون بھی فروخت کر رکھے ہیں جو اس جنگ میں یوکرائن کے لیے اہم ثابت ہو رہے ہیں، تاہم اس سے ماسکو ناراض ہے، اس کے علاوہ ترکی؛ شام، لیبیا میں روسی پالیسیوں اور 2014ء میں روس کی جانب سے کریمیا کے الحاق کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: