روس کا یوکرائنی فوج کو مارشل لاء پر ابھارنا ناقابل قبول ہے، ترک وزیرخارجہ

0 1,015

ترکی کے وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی دیمر پوتن کا یوکرائنی فوج کو اپنی قومی قیادت کے خاتمے پر ابھارنا قابل قبول ہے۔

این ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ""ہم مونٹریکس کنونشن کو اس کی تمام شقوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ ہم کوئی دوہرے معیار اپنائے بغیر، لفظ بہ لفظ اس کے مطابق اپنا پالیسی بیان دیتے ہیں”۔

روس کی جانب سے اپنے ہمسایہ ممالک پر فضائی اور زمینی حملے شروع کیے جانے کے بعد یوکرائن نے ترکی سے باسفورس اور آبنائے ڈارڈینیلس کو روسی بحری جہازوں کے لیے بند کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس درخواست نے نیٹو کے رکن ملک ترکی کو، جو بحیرہ اسود میں یوکرائن اور روس کے ساتھ مشترکہ سمندری حدود رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بھی رکھتا ہے، کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ 1936ء کے معاہدے کے تحت، انقرہ کا ان آبناؤں پر کنٹرول ہے اور وہ کسی بھی جنگ کے وقت یا خطرے کی صورت میں جنگی جہازوں کے گزرنے کو محدود کر سکتا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ انقرہ، ماسکو یا کیف کے ساتھ تعلقات ختم کیے بغیر بحران سے نمٹنے کی کوشش کرے گا، لیکن انہوں نے یوکرائن کے خلاف روسی اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔

دفاع اور توانائی کے شعبوں میں روس کے ساتھ قریبی تعلقات اور معاہدوں کے ساتھ ساتھ، ترکی نے یوکرائن کو جدید ترین جنگی ڈرون بھی فروخت کیے ہیں اور روس کو ناراض کرتے ہوئے ان ڈرونز کی مزید مشترکہ پیداوار کے معاہدے پر دستخط کیے۔

اس کے علاوہ ترکی، شام اور لیبیا میں روسی پالیسیوں، 2014ء میں کریمیا کے الحاق اور 2008ء میں جارجیا کے دو علاقوں کو تسلیم کرنے کی مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: