ترکی کی جانب سے S-400 خریداری پر روس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا، روسی سفیر

0 604

ترکی کے لیے روس کے سفیر نے کہا ہے کہ ترکی کی جانب سے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری پر روس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ الیکسی یرخوف نے یہ بات روس کے قومی دن کے موقع پر انقرہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ترکی کے نائب وزیر خارجہ سیدات اونال سمیت متعدد غیر ملکی سفارت کاروں نے بھی روسی سفارت خانے میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کی۔

یرخوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ” S-400 (میزائل سسٹم) کے حوالے سے روس کے مؤقف اور پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہے اور نہ آئے گی۔”

ترکی کے لیے روس کے عہد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یرخوف نے زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

امریکا اور ترکی کے درمیان تناؤ حالیہ چند مہینوں میں اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے جب ترکی جدید S-400 زمین سے فضاء میں مار کرنے والے روسی ڈیفنس سسٹم وصول کرنے کے لیے تیار ہے جو واشنگٹن کے مطابق امریکی F-35 لڑاکا جیٹ پروگرام میں ترکی کے کردار کو خطرے میں ڈال دے گا اور کانگریس کی جانب سے پابندیاں بھی لگا سکتا ہے۔

امریکی حکام نے ترکی کو تجویز کیا کہ وہ ماسکو سے S-400 سسٹم کے بجائے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدے، کیونکہ وہ روسی نظام کو نیٹو کے سسٹمز کے مطابق نہیں سمجھتا اور F-35 کو روس کے سامنے آشکار کردے گا۔ البتہ ترکی نے زور دیا کہ S-400 نیٹو سسٹمز میں شامل کیا جائے گا اور اتحاد کے لیے خطرہ نہیں ہوگا۔

یرخوف نے ترکی اور روس کے درمیان ویزے کے خاتمے کے بارے میں بھی بات کی۔

"ہم ویزوں کے حوالے سے اپنے ترک ساتھیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ لیکن کیونکہ یہ مسئلہ بہت تفصیلی نوعیت کا ہے، اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ یہ مسئلہ پانچ منٹ میں حل ہو جائے۔ مجھے امید ہے کہ وقت آنے پر ہم اسے حل کرلیں گے۔”

فروری میں روسی صدر ولادیمر پوتن نے ترک سروس پاسپورٹ رکھنے والے اور روس کے لیے سفر کرنے والے ٹرک ڈرائیوروں کے لیے ویزے کی شرط اٹھانے کے حکم پر دستخط کیے تھے۔

نئے قوانین مختصر مدت کے کاروباری دوروں، بشمول سفارتی مشن اور قونصل خانوں، کے لیے خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے اور انٹرنیشنل کارگو پہنچانے والے پروفیشنل ڈرائیوروں کے لیے لاگو ہیں۔

تبصرے
Loading...