‏‏S-400 بیٹریز انقرہ اور جنوب مشرقی ترکی میں لگائے جانے کا منصوبہ

0 1,110

ترکی اگلے دو ہفتوں میں روسی ساختہ S-400 زمین سے فضاء میں مار کرنے والا میزائل ڈیفنس سسٹم حاصل کرے گا کہ جس کا اعلان صدر رجب طیب ایردوان نے جی20 اوساکا اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے حالیہ دورۂ جاپان میں کیا۔ گزشتہ ہفتے حکمران عدالت و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے ترجمان عمر چیلک نے بھی ان مقامات کے بارے میں بتایا تھا کہ جہاں S-400 نصب کیے جائیں گے البتہ ان کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

سکیورٹی ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ترکی کو موصول ہونے والی اولین دو میں سے پہلی S-400 بیٹری انقرہ صوبے کے آکنجی ایئربیس پر لگائی جائے گی۔ آکنجی تین سال قبل جولائی 2016ء میں ہونے والی بغاوت کی کوشش کے دوران باغی فوجیوں کا کمانڈ بیس تھا۔ دوسری S-400 بیٹری ترکی کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقے میں تزویراتی اہمیت کے حامل کسی مقام پر لگائی جائے گی، البتہ اس کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔

ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ڈیفنس سسٹم خریدنے کا فیصلہ ہی اس کے نیٹو اتحادی امریکا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا سبب بننے کی کئی وجوہات میں سے ایک ہے جس کا کہنا ہے کہ روسی سسٹم نیٹو سسٹمز کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر F-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کے لیے۔

گو کہ یہ تناؤ صدرایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے بعد کچھ کم ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے S-400 معاہدے اور F-35 طیاروں پر امریکا اور ترکی کے درمیان تناؤ کی ذمہ داری سابق صدر براک اوباما پر ڈالا اور کہا کہ یہ ایردوان کی غلطی نہیں تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے ترکی کو پیٹریاٹ میزائل خریدنے کی اجازت نہیں دی۔ "انہوں نے وہ میزائل خریدنے نہیں دیے جو یہ خریدنا چاہتے تھے یعنی پیٹریاٹ۔ اور جب انہوں نے کسی اور سے میزائل خرید لیے تو پھر کہنے لگے کہ ہم پیٹریاٹ بیچیں گے۔” ٹرمپ نے کہا۔

جدید روسی میزائل سسٹم کی آمد کا وقت قریب آتے آتے ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات خراب تر ہوتے چلے گئے۔ امریکا پہلے ہی کئی ملین ڈالرز کے ان جیٹ جہازوں کی وصولی سے قبل ترکی کو طے شدہ پرزوں اور سروسز کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔

ترکی نے 2017ء میں S-400 سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا تھا کہ جب امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔

البتہ امریکی عہدیداروں نے ترکی کو S-400 کے بجائے پیٹریاٹ میزائل خریدنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ یہ نیٹو سسٹمز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ ترکی نے جواب دیا کہ یہ پیٹریاٹس فروخت کرنے سے امریکی انکار تھا کہ جس کی وجہ سے اسے دوسرے ملکوں کا رخ کرنا پڑا اور مزید کہا کہ روس کے ساتھ سودا بہتر ہے جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔

تبصرے
Loading...