روسی ساختہ ‏S-400‎ کی فراہمی کا عمل شروع ہو گیا، ترکی

0 1,106

روسی ساختہ زمین سے فضاء میں مار کرنے والے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی ترکی کو فراہمی کا عمل شروع ہو گیا ہے، وزارت دفاع نے جمعے کو بتایا۔

S-400 کے پرزوں کا پہلا حصہ جمعے کو دارالحکومت انقرہ کے قرب واقع مورتد ایئر بیس پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔

دریں اثناء، روس کی عسکری و تکنیکی تعاون کے لیے فیڈرل سروس نے تصدیق کی ہے کہ S-400 میزائل سسٹم کی ترکی کو فراہمی شروع ہو گئی ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل متفقہ دورانیے میں مکمل ہو جائے گا۔

سرکاری نشریاتی ادارے TRT نے ایک فوٹیج پیش کی ہے جس کے مطابق ایک تیسرا روسی انتونوف An-124 کارگو ہوائی جہاز انقرہ کی ایئربیس پر اترا ہے، اور مزید اگلے چند دنوں میں پہنچیں گے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ سسٹم کہاں نصب کیا جائے گا۔

TRT نے مزید کہا کہ سسٹم مورتد ایئر پورٹ پر ایک مشترکہ ترک-روسی ٹیکنیکل ٹیم کی جانب سے اسمبل کیا جائے گا اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر نصب ہوگا کہ جن کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔

"یہ عمل منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے،” وزیر خارجہ چاؤش مولود اوغلو نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم نے جہازوں اور سازوسامان کے ساتھ آنے والے عملے کے لیے اجازت سمیت ہر پہلو سے تعاون کیا ہے۔”

اس پیشرفت پر نیٹو نے فوراً تبصرہ کیا ہے اور گوکہ ملک اپنے فیصلوں میں خود مختار ہیں لیکن ہم ترکی کی جانب سے S-400 سسٹم حاصل کرنے کے فیصلے کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ خطرہ ہے کہ روسی سسٹم اتحادیوں کے ہتھیاروں کے ساتھ عدم مطابقت کا حامل ہے۔

"نیٹو کے لیے ہماری مسلح افواج کی باہمی عملیت (interoperability) آپریشنز اور مشنز کے لیے بہت اہم ہے،” نیٹو عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا۔

انقرہ اور ماسکو نے 11 اپریل 2017ء کو S-400 کے حصول کے لیے معاہدہ کیا تھا جب فریقین نے سسٹم کی دو بیٹریز کے لیے 2.5 ارب ڈالرز کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ روس کا جدید ترین طویل فاصلے تک مار کرنے والا اینٹی ایئر کرافٹ میزائل سسٹم ہے جو 2007ء سے استعمال میں ہے۔

امریکا نے بارہا ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ یہ سسٹم خریدتا ہے تو اس پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ترکی کو جدید ترین F-35 لڑاکا طیاروں کی پیداوار کے عمل میں مزید شرکت سے بھی روک دیا جائے گا۔

ترکی نے امریکی دباؤ کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی قومی سالمیت کے معاملات میں جو چاہے خریدے گا۔

تبصرے
Loading...